کے ایم سی 15ہزار ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اصافے پر فوری عمل کرائے۔ جنید مکاتی

243

کراچی(اسٹاف رپورٹر)بلدیہ عظمٰی کراچی کے اپوزیشن لیڈر و جماعت اسلامی کے مقامی رہنما جنید مکاتی نے میئر وسیم اختر سے مطالبہ کیا ہے کہ کے ایم سی کے 15 ہزار ملازمین کی حق تلفی اور زیادتیوں کا سلسلہ بند کرکے تنخواہوں میں ہونے والے اضافے پر فوری عمل درآمد کے ساتھ 2018 مستقل کیے گئے 7 سو ملازمین کے ایک سال کے بقایاجات بھی فوری ادا کیے جائیں،

اپنے مطالبے کے حوالے سے جنید مکاتی نے بدھ کو میئر سیکریٹریٹ میں تحریری درخواست بھی جمع کرائی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بتایا ہے کہ بلدیہ عظمٰی کی حق پرست قیادت غریب ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ سال کیے گئے 15 فیصد اضافے کو سات ماہ گزرجانے کے باوجود تنخواہوں میں شامل نہیں کررہی ہے،

جبکہ سال 2018 میں عدالت کے حکم پر مستقل کیے گئے سات سو ملازمین کی ایک سال کی تنخواہیں بھی دبا بیٹھی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ سات سو کنٹریکٹ ملازمین کو جولائی 2018 میں مستقل کیا گیا تھا مگر ان کی تنخواہیں اگست 2019 سے جاری کی گئیں،

جنید مکاتی نے کہا کہ ہم کسی صورت میں غریب ملازمین کا حق مارنے کی اجازت نہیں دیں گے بلکہ اگر حق تلفی کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو سخت احتجاج بھی کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ میں نہیں اتی کہ کے ایم سی کے 15 ارب روپے کے غیر ترقیاتی بجٹ کے اربوں روپے کہاں جارہے ہیں،

انہوں نے وزیراعلٰی سید مراد علی شاہ اور وزیر بلدیات و اطلاعات ناصر شاہ سے بلدیہ عظمی کراچی اور خصوصا مالی امور پر توجہ د ینے کا مطالبہ کیا ہے۔