مزید6ہلاکتیں‘تعداد14ہوگئی‘زہریلی گیس کا معما حل نہ ہوسکا

313
کراچی:کیماڑی کے مکین زہریلی گیس پھیلنے سے ہونیوالی اموات کیخلاف احتجاج کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر+مانیٹرنگ ڈیسک) کیماڑی میں زہریلی گیس کے اخراج کے باعث مزید 6 افراد جاں بحق ہوگئے مجموعی طورپر3 دن میںجاں بحق ہونے والوں کی تعداد 14 ہوگئی جبکہ سیکڑوں افراد متاثر ہیں، محکمہ صحت سندھ نے 14 اموات کی تصدیق کردی۔ 3 روز بعد بھی گیس کے اخراج کا سراغ نہ مل سکا ،معاملے کی تحقیقات کے لیے افواج پاکستان کے جوہری اور کیمیائی ماہرین کو طلب کرلیا گیا۔ جان لیوا زہریلی گیس کہاں سے نکلی، کیوں پھیلی،کیسے پھیلی، کوئی ادارہ گیس لیکج کا سراغ نہ لگاسکا۔ یہ نااہلی ہے؟ ناکامی ہے؟ یا کچھ چھپانے کی کہانی ہے؟ سوال بڑھنے لگے، قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں،وفاقی حکومت خاموش اور سندھ حکومت کے پاس جواب نہیں کہ آخر یہ پراسرار گیس کہاں سے آرہی ہے۔ ریلوے کالونی، جیکسن مارکیٹ، مسان چوک کے رہنے والے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں ماسک لگاکر رہنے پر مجبور ہوگئے، ڈیفنس، کلفٹن، باتھ آئی لینڈ میں ناگوار بدبو پھیلی تو اسکولوں میں چھٹی کردی گئی۔ زہریلی گیس جاں بحق ہونے والوں میں سے 6 افراد نے ضیاالدین اسپتال، 2 نے سول اسپتال، 2 کتیانہ میمن اسپتال کھارادر اور ایک نے برہانی اسپتال میں دم توڑا۔ سول اسپتال میں جاں بحق ہونے والے عمران اشرف اور ایک نامعلوم شخص کی لاشوں کا پوسٹمارٹم کرلیا۔جبکہ سول اور کتیانہ میمن اسپتال سے 14متاثرین کے خون کے نمونے بھی حاصل کرلیے گئے،پولیس سرجن ڈاکٹر اقرار عباسی کے مطابق لاشوں اور متاثرین سے حاصل کیے گئے تمام نمونوں کو کیمیائی معائنے کے لیے کیمیکل ایگزامنر کے دفتر پہنچادیا گیا،جس کی بدھ کی شام تک رپورٹ ملنے کی توقع ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق کراچی پولیس کی جانب اعلیٰ حکام کو دی جانے والی رپورٹ کی روشنی بندرگاہ پر لنگر انداز ایک بحری جہاز سے سویابین کے بھی نمونے لیے گئے ہیں جس کی رپورٹ آج ملنے کا امکان ہے، اس رپورٹ کا علاقے سے لیے گئے سیمپل اور متاثرین کے خون کے نمونوں کے سیمپل سے موازنہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پولیس نے اس شبے کا اظہار کیا تھا کہ ہوا میں جان لیوا آلودگی کی وجہ یہ سویا بین بھی ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر ضیاالدین اسپتال کے ترجمان عامر شہزاد کے مطابق گزشتہ 2 روز کے دوران ضیاالدین کیماڑی کیمپس میں 9 افراد کی اموات ہوئیں ، اسپتال میں اب تک 250 افراد کو لایا جاچکا ہے جس میں زیادہ تر افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد واپس بھیج دیا گیا تاہم 5 افراد انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج ہیں جن کی حالت بہتر ہورہی ہے۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیمی جمالی کے مطابق جناح اسپتال میںگزشتہ روز کیماڑی اور اطراف کے علاقوں میں گیس سے متاثر تقریباً 500 افراد کو اسپتال لایا گیا، جیکسن کیماڑی سے جو لوگ لائے گئے ان میں بچے بھی شامل تھے جن میں سے ایک شخص آئی سی یو میں زیر علاج ہے جس کی حالت تشویشناک ہے۔