نقطہ نظر

281

لوگوں کی بھلائی پر توجہ رکھیں
ہمارے معاشرے میں لوگوں کی تین اقسام پائی جاتی ہیں جو اچھی سوچ (بڑا دماغ) رکھتے ہیں۔ وہ خیالات پر بحث کرتے ہیں اور اپنے کام سے کام رکھنا پسند کرتے ہیں، دوسرے درجے کے حالات و واقعات کو زیر بحث لاتے ہیں اور تیسرے درجے کے صرف خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں۔ لگائی بجھائی اور تانکا جھانکی میں وقت صرف کردیتے ہیں جنہیں ہم تیسرے درجے کی ذہنیت بھی کہتے ہیں۔ غیبت اور تہمت ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے، غیبت کیا ہے؟ صحیح مسلم کی ایک حدیث کے مطابق کسی کی وہ بات ذکر کرنا جو اسے بُری معلوم ہو، کسی صحابی نے عرض کیا اگر اس میں وہ بات ہو فرمایا یہی تو غیبت ہے اگر وہ اس میں نہیں تو بہتان ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ الحجرات میں اس کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے اور آیت 14 میں اسے اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ ذرا سوچیے کہ ہم دن رات کتنی غلاظت اپنے پیٹوں میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ آج سے ہزاروں سال قبل سقراط نے بھی گفتگو کے 3 اصول وضع کردیے تھے اور اس کے تمام شاگرد اس پر عمل بھی کرتے تھے، وہ تین اصول یہ تھے۔-1 کیا یہ بات سو فی صد درست ہے،-2 کیا یہ بات اچھی ہے۔ -3 اور کیا یہ بات سننے والے کے لیے مفید بھی ہے۔ اگر وہ بات ان تین اصولوں پر پوری اُترتی تو وہ بے دھڑک بول دیتے تھے اور اگر وہ کسی اصول پر پوری نہ اُترتی یا پھر ان میں کوئی ایک عنصر کم ہوتا تو وہ خاموش ہوجاتے تھے۔ آج ہمارے معاشرے کو بھی ان تین اصولوں کی بہت سخت ضرورت ہے جہاں بے وجہ نکتہ چینی، چغل خوری اور گمراہ کن باتوں کا دور دورہ ہے۔ ہر فرد دوسرے کے لیے چاہے اس کے سامنے ہی کیوں نہ ہو احساسات و جذبات کی پروا کیے بغیر زبان کے تیر چلانے کی تاک میں بیٹھا ہوا ہے۔ جس سے بہت افسوسناک واقعات جنم لے رہے ہیں۔ کیا ہماری ہر محفل، فون کال اس گندگی میں پڑے ہوئے نہیں ہیں۔ اس ضمن میں یہاں میں الیکٹرونک میڈیا کو بھی اس کا سب سے زیادہ قصور وار اور ذمے دار ٹھیرائوں گی جو اس طرح کے پروگرام خاص طور پر ڈرامے نشر کرتے ہیں جن سے نہ صرف خونیں رشتوں میں دراڑیں پیدا ہوں بلکہ آپس کی چپقلش اور رنجشوں کو بھی خوب ہوا ملے۔ اس کے برعکس اگر اچھے یا بُرے کا تعین کرنے کے بجائے صرف کارکردگی پر توجہ مرکوز کرلی جائے تو ہمارے اداروں کا وہ حال نہ ہو جو آج ہورہا ہے، ایک بنیادی اخلاقی اصول ہے کہ خامیاں مت گِنو، اگلے کا اعتماد ٹوٹے گا، صرف غلطیوں سے آگاہ کردو اگر اصلاح مقصود ہے تو۔ اس لیے بحیثیت مسلمان ہمیں ایک دوسرے کی پردہ پوشی پر اجر عظیم کی خوش خبری بھی دی گئی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم دوسروں کی عادتوں اور غیر مناسب رویوں کو نظر انداز کرلیں۔ عفوودرگزر سے کام لیں تا کہ نہ دل میں کسی کے لیے گلہ ہو نہ پیٹھ پیچھے اوروں سے تذکرہ کرنے کی ضرورت پیش آئے۔
فاریہ بنت احمد، عائشہ منزل، کراچی