اخبارات کے واجبات اور اشتہارات کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائیں گے، ناصر حسین شاہ

319
کراچی: اے پی این ایس کے تحت چھوٹے اخبارات کے مسائل اور ان کا حل کے موضوع پر سیمینار سے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ ، جاوید جبار، سرمد علی، ڈاکٹر واسع شاکر، یونس مہر، طاہر اکبر و دیگر خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے اخبارات کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ حکومت سندھ میڈیا انڈسٹری کے فروغ اور ترقی کے لیے بھر پور اقدامات کرے گی اور اخبارات کے واجبات کی جلد ادائیگی اور اشتہارات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے گی۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کی میٹرو پولیٹن بی متوسط اور چھوٹے اخبارات کی کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے بطورمہمان خصوصی صوبائی وزیر اطلاعات نے خطاب کرتے ہوئے اے پی این ایس کو یقین دلایا کہ محکمہ اطلاعات سندھ اور اے پی این ایس کی باہمی مشاورت سے طویل عرصے سے زیر التوا واجبات کی جلد ادائیگی اور ماہانہ بنیاد پر ادائیگیوں کا نظام وضع کیا جائے گا۔انہوں نے ڈسپلے اشتہارات کے اجرا اور صوبائی اشتہارات کی تقسیم کو منصفانہ بنانے کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ۔کانفرنس سے سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور میڈیا انڈسٹری کے ممتاز ماہر جاوید جبار نے اپنے کلیدی خطاب میں اخبارات پر زور دیا کہ وہ مقامی معاملات کو نمایاں طور پر اجاگر کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم عصر دنیا میں اطلاعات کی بھر مار نے صارف کی توجہ کے دائرے کو محدود کردیا ہے اس لیے اخبارات کو ایسا مواد تخلیق کرنا چاہیے جو صارف کی توجہ حاصل کرسکے ۔انہوں نے عالمی اخبارات کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اخبارات حالات کے تناظر میں مواد کو صارف کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے آج کی ملٹی میڈیا دنیا میں ترقی کررہے ہیں ۔کانفرنس سے اے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل سید سرمد علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے میڈیا نظام میں ٹی وی ،ریڈیو اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ اخبارات بھی اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ اخبارات ختم ہورہے ہیں کیونکہ افراد کی زندگی کی ضروریات میں ہر میڈیا کا اپنا حصہ ہوتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اخبارات کو اپنی تجدید کرنا ہوگی اس کے لیے نیوزپیپرز کو ویوز پیپرز میں تبدیل کرنا ہوگا اور نوجوان نسل کے قاری سے اپنا رشتہ استوار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کو ٹی وی پر پیش کی جانے والی خبروں سے آگے بڑھ کر پس منظر اور تجزیاتی رپورٹیں شائع کرنی چاہیے ۔سرمد علی نے بتایا کہ وفاق،پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں پر اخبارات کے 4 ارب روپے واجب الادا ہیں جب کہ سرکاری اشتہارات کا حجم60 فیصد کم ہوگیا ہے جس کے باعث اخبارات ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی سے قاصر ہیں یہ صورت حال بالآخر میڈیا انڈسٹری میں بیروزگاری بڑھانے پر منتج ہوگی۔کانفرنس سے یونس مہر اور ممتاز پھلپھوٹو نے بھی خطاب کیا اور سندھ کے اخبارات کو درپیش مسائل پر خیالات کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالواسع شاکر نے افتتاحی خطاب میں تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کمیٹی کی سرگرمیوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کی سفارش پر اے پی این ایس نے25 ستمبر کو یوم اخبار بینی منایا جس کے ذریعے اخبارات اور مطالعہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک آگاہی مہم شروع کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس کانفرنس کے بعد جلد ہی اخبارات کے مسائل پر ایک ورک شاپ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ کانفرنس نے سید طاہراکبر کی قرارداد کو منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت اشتہارات کی منصفانہ تقسیم اور اخبارات کے طویل عرصے سے زیرالتوا ء واجبات کی جلد ادائیگی کو یقینی بنائے۔اجلاس میں اخبارات کے پبلشرز اور ایڈیٹروں نے شرکت کی۔