این آئی سی ایچ ڈاکٹروں غفلت 2سال کی بچی جاں بحق ، ورثا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

584

کراچی (اسٹاف رپورٹر)این آئی سی ایچ میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے 2سال کی بچی جان کی بازی ہار گئی۔بچی کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ میری بیٹی این آئی سی ایچ کے ڈاکٹر مرتضیٰ کی غفلت کی وجہ سے جاں بحق ہوگئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ امراض اطفال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے 2سالہ بچی ایمن جاں بحق ہوگئی ۔بچی کے والد کے مطابق میری بیٹی چار دن سے این آئی سی ایچ میں زیر علاج تھی۔ہفتہ کی رات ڈاکٹروں نے کہا کہ بچی کی طبیعت زیادہ خراب ہے وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے۔میں وینٹی لیٹر کے لئے گیا تو ایک وینٹی لیٹر خالی تھا۔مجھے اسٹاف نے کہا کہ ڈاکٹر مرتضی کی اجازت کے بغیر وینٹی لیٹر نہیں مل سکتا۔این آئی سی ایچ کا اسٹاف ڈاکٹر مرتضی کو فون ملاتا رہا لیکن اس نے فون نہیں اٹھا یا۔:میری بیٹی این آئی سی ایچ میں وینٹی لیٹر کے لئے گھنٹوں تڑپتی رہی لیکن ڈاکٹر مرتضی نے اسٹاف کا فون نہیں اٹھا یا۔انہوںنے بتایا کہ میں نے بھاگ دوڑ کرکے پرائیویٹ وینٹی لیٹر کا انتظام کیا لیکن تب تک میری بچی مرگئی تھی۔مجھے این آئی سی ایچ کے ایک ملازم نے کہا کہ ڈاکٹر کے ساتھ میری سیٹنگ ہے 10ہزاردو وینٹی لیٹر مل جائیگا۔انہوںنے کہا کہ بچی کے انتقال کے اگلے دن ہم ڈاکٹر مرتضی کے پاس گئے اور کہا کہ آپ فون اٹھاتے تو میری بچی بچ جاتی۔ڈاکٹر مرتضی نے کہا کہ یہاں روز پتہ نہیں کتنے بچے مرجاتے ہیں۔عادل نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر مرتضی نے ہمیں دھمکیاں دیںاور مجھ سے ہاتھا پائی کی بھی کوشش کی۔ادھر این آئی سی ایچ میں بچی کے لواحقین اور عملے کے درمیان کشیدگی سی سی ٹی وی منظر عام پر آگئی ہے ،جس میں لواحقین اور عملے کے درمیان کے ہاتھا پائی دیکھی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب صدرتھانے میں ڈاکٹروں پرتشدد اور اسپتال میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا ہے، مقدمہ نمبر 70/2020 سرکاری ڈاکٹرپروفیسرمرتضی کی مدعیت میں درج کیاگیاہے، مقدمے کے متن میں ہے کہ10 نامعلوم اشخاص آئی سی یوکے اطراف آئے اور میرانام لے کرمیرے بارے میں پوچھا ، نامعلوم اشخاص کاکہناتھاکہ ڈاکٹروں کی غفلت سے ہماری بچی جاں بحق ہوئی،مشتعل افرادنے لیڈی نرس اسٹاف کوبھی حراساکیا،تشددکرنے والے مسلح معلوم ہورہے تھے، پولیس نے اسپتال سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔