بغداد میں پُر تشدد احتجاج جاری‘ درجنوں افراد زخمی

98
بغداد: سیکورٹی فورسز نہتے مظاہرین پر لاٹھی چارج کررہی ہیں

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی دارالحکومت میں مختلف مقامات پر سیکورٹی فورسز اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان شدید جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز بغداد کے وثبہ اور خلانی نامی چوراہوں پر بڑی تعداد میں مظاہرین تحریر اسکوائر کی جانب بڑھنے کی کوشش کررہے تھے کہ سیکورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ اس دوران اہل کاروں نے احتجاج کرنے والوں پر تشدد کے علاوہ آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔ اتوار کے روز بھی تصادم کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں جنوبی شہر الناصریہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ اور مظاہرین کے خیمے نذر آتش کرنے کے ساتھ حبوبی چوک پر کئی دکانیں بھی نذر آتش بھی کردی گئی تھیں، جس کے بعد پیر کے روز صوبہ ذی قار کے مرکزی شہر ناصریہ میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے مظاہرین نے دوبارہ خیمے لگانا شروع کردیا۔ اس سے قبل اتوار کے روز بغداد کے گرین زون میں راکٹ حملوں کے نتیجے میں کئی افراد کے زخمی ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حساس علاقے میں نامعلوم سمت سے وقفے وقفے سے 5 راکٹ داغے گئے، تاہم عراقی حکام تفصیلات بتانے سے گریزاں ہیں۔ اُدھر امریکی محکمہ خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بغداد حکومت امریکی سفارتی تنصیبات کی حفاظت یقینی بناتے ہوئے اپنی ذمے داری پوری کرے۔ عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی اور اسپیکر محمد جلبوسی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو جنگ میں گھسیٹنے کا خدشہ موجود ہے، جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔