پارکن سنز اور اس کی معجزاتی تشخیص فاطمہ عزیز

301

چالیس سالہ نرس’’ جوائے ملنی‘‘ جو کہ پرتھ اسپتال اسکاٹ لینڈ میں نرس کے فرائض انجام دیتی تھیں نے غور کیا کہ ان کے شوہر کے پاس اے ایک خاص قسم کی بو آتی ہے ۔ جوائے نے پہلے تو سوچا کہ یہ صاف صفائی نہ ہونے کی وجہ سے آ رہی ہے اور اپنے شوہر کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ روز نہایا کریں مگر جب بو پھر بھی بر قرار رہی تو جائے نے اس کے ساتھ جینا سیکھ لیا ۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے شوہر بار بار بو کا ذکر کرنے پر ان سے متنفر ہو جائیں ۔
اس واقعے کے بارہ سال بعد جوائے کے شوہر کو چالیس سال کی عمر میں پارکن سنز کی بیماری نے آ دبوچا یہ دماغ کی ایک ایسی بیماری ہے جس میں دماغ کے پیغام جسم تک پہنچانے والے خلیے جن کو ہم نیو رونز کہتے ہیں ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہمارا جسم آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ سب سے پہلے آپ کے ہاتھ میں رعشہ آتا ہے ۔ زبان لڑ کھڑانے لگتی ہے ۔ چہرہ تاثرات دینے سے خارج ہو جاتا ہے لیکن آہستہ آہستہ جب یہ بیماری بڑھتی ہے تو جسم روز مرہ کے کام کرنا بھول جاتا ہے اور انسان آہستہ آہستہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے ۔ یہ بیماری دماغ میں موجود ڈوپا مین ہارمون کم ہونے کی صورت میں بھی واقع ہوتی ہے اور جب تک اس کی علامات نظر آتی ہیں انسان کے دماغ میں ڈوپا مین ختم ہو چکا ہوتا ہے ۔ اس بیماری کو جلد پکڑنا ممکن نہیں ہے اور اس کا کوئی علاج بھی نہیں ہے ۔ ہاں جب بیماری کی علامات نظر آنا شروع ہو جائیں تو مریض کو ایسی دوائیں دی جاتی ہیں جو اس کے ڈوپا مین کو زیادہ سے زیادہ دماغ میں محفوظ رکھ سکیں جس کی صورت میں بیماری کو پیچھے دھکیلا جا سکتا ہے مگر ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت دنیا بھر م یں دس ملین لوگ پارکن سنز کی بیماری میں مبتلا ہیں ۔
اپنے شوہر کے مرنے کے بعد جوئے نے ہمیشہ یہی سوچا کہ وہ خاص بو ان کے شوہر کا ہی خاصہ تھی مگر ایک دن ان کو اس وقت حیرت کا شدیدجھٹکا لگا جب وہ ایک میٹنگ میں شریک ہوئیں اور وہاں اسے ماھول میں وہی بو پھیلتی محسوس ہوئی ۔ یہ سال 2012ء کا واقعہ ہے ۔اس کے بعد ملنی کے دماغ نے سوچنا شروع کیا کہ کہیں یہ بو پارکن سنزبیماری کی وجہ سے تو نہیں آتی ۔ملنی کی جستجو نے اسے ڈاکٹر تلو کونتھ سے ملوایا جو کہ ایڈن برگ کی سینئر آف ری جنریڈ میڈیسن یونیورسٹی میں نیورو بائیو لوجسٹ ہیں ۔
ڈاکٹر کونتھ کا کہنا ہے کہ ’ ’ میں ایک کانفرنس میں لیکچر دے رہا تھا جس کا موضوع پارکن سنز کی بیماری اور اس کا علاج اسٹم ملز بائیولوجی تھا جس پر میں اس وقت ریسرچ کر رہا تھا اور اس کانفرنس میں جوائے بھی شریک تھیں ۔ جب سوال جواب کا وقت آیا تو جوائے نے سوال پوچھا کہ کیا پارکن سنز کی بیماری کی ایک خاص بو ہوتی ہے؟ جس پرکوناتھ پریشان ہو گئے اور انہوں نے جواب میں کہا کہ ایسا انہوں نے کبھی سنا نہیں ہے مگر یہ سوال کوناتھ کے دماغ میں اٹک گیا اور وہ کانفرنس کے کافی دن بعد تک اس سوال کا جواب سوچتے رہے ۔
کوناتھ اپنی تحقیق اور علم سے یہ بات جانتے تھے کہ مختلف لوگوں کی جلد میں مختلف قسم کے جراثیم پائے جاتے ہیں ارو کچھ جلدی بیماریوں میں یہ جراثیم ایسی چیزیں پیدا کرتے ہیں جن کی بو ہوتی ہے ۔مثال کے طور پر میلانوما اور شوگر کے مریضوں کے پاس سے ایک خاص قسم کی بو آتی ہے مگرکوناتھ نے آج تک یہ بات پارکن سنز کی بیماری کے متعلق نہیں سنی تی ۔ کوناتھ سوچنے لگا کہ اگر کوئی شخص پارکن سنز کی بیماری کو سونگھ سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم جلد میں پائے جاتے ہیں جو کہ الگ کئے جا سکتے ہیں ۔ پہچانے جاسکتے ہیں اور پھر ان کی شناخت کے بعد کسی بھی شخص میں پارکن سنز کی بیماری تشخیص کی جا سکتی ہے اور اگر ایساہو جائے تو یہ میڈیکل کی فیلڈ میں ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی ۔ یہ سب سوچنے کے بعد کوناتھ نے نرس جوائے ملنی کی سونگھنےکی حس کا امتحان لینے کا سوچا ۔ اس کے بعد کوناتھ نے جوائے سے رابطہ کیا اور ان کوا پنے کلینک آنے کی دعوت دی ۔ جہاں پر کوناتھ نے جوائے کے لیے ایک ٹیسٹ تیار کر رکھا تھا جس سے ان کی سونگھنے کی طاقت کا اندازہ لگایا جانا تھا۔ کوناتھ نے فیصلہ کیا کہ نرس جوائے کو پہلے قدم پر مریضوں سے ملوانا ٹھیک نہیں ہوگا اس لیے انہوں نے پارک سنز میں مبتلا مریضوں کی قمیضیں جمع کیں ۔ یہ وہ مریض تھے جن کی بیماری کی شناخت ہو چکی تھی ۔ ان قمیضوں کے ساتھ صحت مند لوگوں کی قمیضیں بھی شامل کر دی گئیں ۔ اور پھر یہ تمام کپڑے جوائے ملنی کے سامنے پیش کیے گئے جن کو جوائے نے باری باری سونگھنے کے بعد الگ الگ تقسم کر دیا ۔ جوائے نے تمام مریضوں کی قمیض صحیح سونگھ کر الگ کر دیں ۔ ان کا رزلٹ سو فیصد صحیح تھا ۔بلکہ جوائے کو ایک ایسے شخص کی قمیض کی بھی الگ کی جس کو پارکن نہیں تھا پہلے تو کوناتھ پریشان ہوئے کہ جوائے کو غلط فہمی ہوئی ہے مگر صرف نو ماہ بعد اس شخص میں بھی پارکن سنز بیماری کی علامات دکھائی دیں ۔ اس ٹیسٹ سے ثابت کیا کہ جوائے ملنی کی سونگھنے کی طاقت واقعی زیادہ ہے ۔ا ور وہ معجزاتی طور پر پارکرسنز بیماری کو سونگھ سکتی ہیں ۔ سائنسدانوں نے اس ٹیسٹ سے یہ نتیجہ نکالا کہ پارکن سنز بیماری کی ایک خاص بو ہے ۔دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ خاص بو مریض کی قمیض کی پشت کی طرف سے آ رہی تھی ۔ کوناتھ کا کہنا ہے کہ ہمیں امید تھی کہ بو بغلوں سے آئے گی مگر بو پشت کے حصے سے آتی ہوئی محسوس ہوئی جس کے بعد انہوں نے ایک بہت ماہر اسکن اسپیشلسٹ سے رابطہ کیا جنہوں نے بتایا کہ ہر شخص کی کمر میں کچھ خاص تیل نکالنے والے غدود ہوتے ہیں یہ تیل بہت گاڑھا ہوتا ہے اور اس کی میڈیکل کی اصلاح میں سی بم کہا جاتا ہے ۔ یہ خاص بو اس سی بم کی ہوتی ہے جبکہ بغلوں میں پسینہ نکالنے والے غدود ہوتے ہیں ۔ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ پارکن سنز کے مریضوں میں سی بم بہت زیادہ خارج ہوتا ہے ۔
اس کے بعد ڈاکٹر کوناتھ نے اپنےساتھی ڈاکٹر کے ساتھ ملکر ایک ٹیم تشکیل دی جس کا تحقیقی مضمون سی بم تھا ۔ اس ٹیم نے پوری دنیا سے 64 لوگوں کے سی بم کے سیمپل( نمونے) جمعکیے اس کے بعد ان تمام نمونوں کو گیس کرومیٹوگرافی اور ماس اسکینرو میٹری کے ذریعے الگ الگ کیا تاکہ پتہ چلے کہ ایک عام انسان کے سی بم میں کیا کیا اجزاء شامل ہوتے ہیں ۔ اور وہ شخص جس کو پارکن سنز ہے اس کے سی بم میں کن اجزاء کی زیادہ یا کمی پائی جاتی ہے ۔اس تحقیق سے ڈاکٹر کوناتھ نے یہ نتیجہ اخذ اخذ کیا کہ ایک پارکن سنز کے مریض کے سی بم میں کم از کم بارہ غدود بڑھے ہوئے پائے گئے ہیں ۔ اس کے بعد ڈاکٹر کی ٹیم نے ایک ٹیسٹ بنایا جس کے ذریعے کسی بھی شخص میں سی بم کے ذریعے پارکن سنز کی بیماری کی تشخیص کی جا سکتی ہے ۔اس ٹیسٹ کے ذریعے دس میں سے نو لوگوں کے اندر پارکس سنز کی بیماری کا صحیح صحیح اندازہ لگا سکتی ہے ۔
اس سے پہلے پارکن سنز کی شناخت مریضوں کی جسمانی علامات اور حرکات کاجائزہ لے کر بتائی جاتی تھیں ۔ داکٹر کچھ علامات پر کہہ دیتے کہ شاید مریض کو پارکن سنز ہے مگر ان کو اصل میں کوئی اور بیماری نکلتی مثال کے طور پر زبان کا لڑکھڑانا اور رعشہ ، دوسری بیماریوں کی علامات بھی ہوتی ہیں ڈاکٹرکے مطابق پارکن سنز کی علامات ایسی ہیں جن میں سے اکثر بڑھتی عمر کے ساتھ عام پائی جاتی ہیں جس کو رعشہ آنا اکثر شراب پینے والوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ مریض جن میں پارکن سنز چالیس سال کی عمر کے اندر ہو جاتا ہے ۔ ان میں اکثر غلط تشخیص کار ٹنل سڈرومکے نام سے ہو جاتی ہے جو کہ وٹا من ڈی کی کمی کے باعث ہوتی ہے ۔ اسی لیے عموماً پارکن سنز علامات دیکھ کر پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے اور جب تک واضح علامت مریض کے اندر پیدا ہوتی ہیں وہ دماغ کا بہت سا ڈوپا مین کھو چکا ہوتا ہے ۔اس ٹیسٹ کے بعد ایک پارکن سنز کے مریض کی تشخیص علامات ظاہر ہونے سے پہلے کی جا سکتی ہے ۔جس کا مطلب ہے اس بیماری کا جلد علاج جس سے ڈوپا مین کو دماغ میں کم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔
ڈاکثر کی ٹیم آج کل اس شناخت کے ٹیسٹ کو اتنا جدید بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ دو منٹ میں رزلٹ بتا دے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسا ٹیسٹ بنائیں کہ لوگ اسپتال میں بھی استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی خود استعمال کریں ۔ یہ ٹیسٹ یہ بھی بتائے گا کہ کس مریض سے دوائی صحیح مقدار میں لی یا نہیں کیونکہ دوا صحح نہ لینے کی صورت میں سی بم کے غدود بڑھے ہوئے پائے جائیں گے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں یہ ٹیسٹ عوام کی رسائی میں ہ وگا ۔ مگر یہ ٹیسٹ پہلے ان لوگوں کے لیے کیا جائے گا جو کہ پارکن سنز کی بیماری میں مبتلا ہونے کے زیادہ خطرے میں ہیں جیسے کہ وہ لوگ جن کے خاندان میں مرض پایا جاتا ہے ، یا وہ لوگ جو نیند کی کمی کا شکار رہتے ہں ۔ پھر اس کے بعد یہ ٹیسٹ عام لوگوں کی پہنچ میں ہو گا ۔
جوائے ملنی کے شوہر تو پارکن سنز کی بیماری میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے مگر جوائے نے اپنی محنت اور صلاحیتوں کے بناء پر ایک بیماری کا علاج ڈھونڈ نکالا اور امید ہے کہ بہت ساری زندگیاں بچانے میں ان کا ہاتھ شامل رہے گا ۔