غیر قانونی درآمدی گاڑیوں کی تعداد میں اضافے پر تشویش ہے،پاما

35

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے غیر قانونی درآمد ہونے والی بڑے پیمانے پر پرانی گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاما کے جاری کردہ ایک بیان میں اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رواں سال ستمبر میں 565 پرانی گاڑیاں درآمد کی گئی تھیں جبکہ جولائی اور اگست دونوں ماہ کی مجموعی تعداد 531 تھی اور اکتوبر 2019 میں تعداد بڑھ کر 709 گاڑیاں ہوگئی ہیں یہ تعداد ان میں متواتر اضافے کو ظاہر کررہی ہے۔ترجمان نے کہا کہ موجودہ حکومت کی سخت پالیسی کی وجہ سے سال 2018-19 غیر قانونی درآمد ہونے والی پرانی گاڑیوں کی درآمد میں کمی ہوئی تھی اور اس پالیسی کی وجہ سے مقامی انڈسٹری کو بھی فائدہ ہورہا تھا۔ لیکن اب دوبارہ ایسا نظر آرہا ہے کہ امپورٹرز نے اس پالیسی سے گریز کا کوئی راستہ ڈھونڈ لیا ہے جس کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں ان گاڑیوں میں اضافہ ہوا ہے جو مقامی انڈسٹری کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔بعض میڈیا رپورٹس میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ پرانی گاڑیوں کی در آمد کرنے والوں نے دبئی میں رہائش پذیر پاکستانیوں کے پاسپورٹ پر گاڑیوں کی درآمد بڑے پیمانے پر شروع کردی ہے جو امپورٹ پالیسی، گفٹ اسکیم کی خلاف ورزی ہے اس لیے حکومت کو اس عمل کی بیخ کنی کرنے کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ اس عمل سے آٹو سیکٹر، معیشت اور ماحولیات کو شدید خطرات ہیں۔