افکار سید ابوالاعلیٰ مودودی

71

وانک لعلیٰ خُلق عظیم
اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں اسی وجہ سے آپ ہدایتِ خلق کے کام میں یہ اذیتیں بر داشت کر رہے ہیں، ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کے بلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کفار آپ پر دیوانگی کی جو تْہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے، کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی، دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازْن بگڑا ہوا ہو اور جس کے مزاج میں اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے بر عکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور سلیم الفطرت ہے اور اْس کا ذہن اور مزاج غایت درجہ مْتوازن ہے۔
رسول اللہؐ کے اخلاق کی بہترین تعریف عائشہؓ نے اپنے اس قول میں فرمائی ہے کہ کان خلقہ القراٰن۔ ’’قرآن آپ کا اخلاق تھا‘‘۔امام احمد، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور ابن جریر نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ اْن کا یہ قول متعدد سندوں سے نقل کی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہؐ نے دنیا کے سامنے محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہیں کی تھی بلکہ خود اس کا مجسم نمونہ بن کر دکھادیا تھا۔ جس چیز کا قرآن میں حکم دیا گیا آپؐ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا، جس چیز سے اس میں روکا گیا آپ نے خود سب سے زیادہ اْس سے اجتناب فرمایا، جن اخلاقی صفات کو اس میں فضیلت قرار دیا گیا سب سے بڑھ کر آپ کی ذات اْن سے متصف تھی، اور جن صفات کو اس میں ناپسندیدہ ٹھہرایا گیا سب سے زیادہ آپ اْن سے پاک تھے۔ ایک اور روایت میں عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ’’رسول اللہؐ نے کبھی کسی خادم کو نہیں مارا، کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہ اْٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا، اپنی ذات کے لیے کبھی کسی ایسی تکلیف کا انتقام نہیں لیا جو آپ کو پہنچائی گئی ہو الّا یہ کہ اللہ کی حْرمتوں کو توڑا گیا ہو اور آپ نے اللہ کی خاطر اْس کا بدلہ لیا ہو، اور آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب دوکاموں میں سے ایک کا آپ کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ آسان تر کام کو پسند فرماتے تھے، الّا یہ کہ وہ گناہ ہو، اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ دور رہتے تھے‘‘۔ (مسند احمد) انسؓکہتے ہیں کہ ’’میں نے دس سال رسول اللہؐ کی خدمت کی ہے۔ آپ نے کبھی میری کسی بات پر اْف تک نہ کی، کبھی میرے کسی کام پر یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کیوں کیا، اور کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کیوں نہ کیا‘‘۔ (بخاری ومسلم)
(تفہیم القرآن، سورہ القلم آیت 4)