انٹرنیٹ کے حوالے سے پاکستان بد ترین ممالک میں شامل

259

دنیا بھر میں انٹرنیٹ آزادی کے حوالے سے رپورٹ جاری کرنے والے ادارے نے مسلسل 9ویں سال پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی نہ رکھنے والا ملک قرار دے دیا۔

جنوبی ایشیا میں انٹر نیٹ پر قدغن کے لحاظ سے پاکستان کا تیسرا  جبکہ عالمی سطح پر 26واں نمبر  ہے، حکومتیں سوشل میڈیا کو انتخابات پر اثر انداز ہونے اور شہریوں کی نگرانی کے لیے زیادہ استعمال کررہی ہیں۔

اس رجحان کو ٹیکنالوجی کی ڈیجیٹل آمریت کا رجحان قرار دیا گیا،ڈی آر ایف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے کہا کہ ‘رواں برس کی درجہ بندی حکومتوں کی جانب سے قلیل مدتی اور رجعت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

فریڈم ہائوس کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2019 میں انٹرنیٹ آزادی سے متعلق100 ممالک میں پاکستان ایک درجہ تنزلی کے بعد 27ویں نمبر سے 26ویں نمبر پر آگیا۔

فریڈم آن دی نیٹ سے متعلق سالانہ رپورٹ 2019 ‘ کرائسس آف سوشل میڈیا’ میں پاکستان کو انٹرنیٹ کے لحاظ سے ‘ آزاد نہیں ‘ملک قرار دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ ہرسال پاکستان کی درجہ بندی میں مسلسل تنزلی دیکھنے میں آرہی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں جون 2018 سے مئی 2019 کے عرصے کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ اس عرصے میں عالمی سطح پر انٹرنیٹ آزادی میں کمی آئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا بھر کی حکومتیں سوشل میڈیا کو انتخابات پر اثر انداز ہونے اور شہریوں کی نگرانی کے لیے زیادہ استعمال کررہی ہیں۔