مسئلہ کشمیر کے روڈ میپ میں تاخیر ہوئی تو قافلوں کا رخ اسلام آباد کی جانب ہوگا،لیاقت بلوچ

56
جیکب آباد:نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، اسداللہ بھٹو ، محمد حسین محنتی ، ممتاز حسین سہتو ودیگر جہاد کشمیر مارچ سے خطاب کررہے ہیں
جیکب آباد:نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، اسداللہ بھٹو ، محمد حسین محنتی ، ممتاز حسین سہتو ودیگر جہاد کشمیر مارچ سے خطاب کررہے ہیں

جیکب آباد(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اگر حکومت نے فوری طور پرمتفقہ پالیسی، قومی قیادت کو متحد و سفارتی روڈ مپ دینے میں تاخیر کی تو سارے قافلے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور حکمرانوں کے گریبانوں کو پکڑیں گے کہ جہاد فی سبیل اللہ کی طرف آگے بڑھو۔ کشمیر پر مودی کا قبضہ برقرار رہا تو سندھ کی زراعت کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوگا، کرتارپور رہداری پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر اس مرحلے پر میز کے نیچے بھارت سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے یہ تاثر ابھررہا ہے کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا تو نہیں کیا، ٹیپو سلطان بننے کے
دعوایدار حکمران مسئلہ کشمیر پر غیرت و جرتمندی کے بجائے بزدلی کا مظاہرہ کررہے ہیں، عمران خان قومی قیادت کو کشمیر معاملے پر متحرک کرتے تو یہ سیاست کا انتشار اتحاد میں تبدیل ہوسکتا تھا، جماعت اسلامی پوری قوم کو کشمیر کا پشتی بان بنائے رکھے گی ایٹمی طاقت پاکستان کی طاقت ہے مگر بزدل حکمران طبقے نے اس کو بھی کمزوری بنایا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز جماعت اسلامی جیکب آباد کے زیر اہتمام جہاد کشمیر مارچ سے حبیب چوک پر خصوصی خطاب کے دوران کیا، قبل ازیں جہاد کشمیر مارچ شہید اللہ بخش پارک سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں شروع ہوا جوکہ ڈی سی چوک، قائد اعظم روڈ سے ہوتا ہوا حبیب چوک پر جلسے کی شکل اختیار کرگیا، جہاد کشمیر مارچ میں خواتین کی بڑی تعداد نے پہلی مرتبہ بھرپور شرکت کی، اس موقع پر مارچ سے مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو، نائب امرا ممتاز حسین سہتو، حافظ نصر اللہ چنا، نظام الدین میمن، جنرل سیکرٹری کاشف شیخ، عبدالحفیظ بجارانی، ضلعی امیر حاجی دیدار لاشاری، جمعیت سندھ کے ناظم اسد قریشی، پیما جیکب آباد کے صدر ڈاکٹر نصر اللہ سومرونے بھی خطاب کیا جبکہ صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا، چیمبرس آف کامرس سریچند بھاونانی و دیگر سیاسی وسماجی رہنما بھی مارچ میں موجود تھے، مارچ میں پی ٹی آئی کے رہنما عبدالروف بنگلانی نے جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ عمران خان نے ماضی کی حکومتوں کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا، پاکستان میں ریاست مدینہ کے نظام کو لانے کا دعویٰ کرنے والے سود کشکول قرضوں اور کرپشن کی لعنت کو ختم نہیں کرسکے، خود انحصاری اپنے وسائل کا استعمال جوانوں بیٹیوں کسانوں پر حکومت نے کوئی رحم نہیں کھایا آج مہنگائی سب کو ڈس رہی ہے، ایک کروڑ نوکریوں کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں، اسٹیل مل، پی آئی اے، او جی ڈی سی ایل، ای او بی آئی کو نجکاری میں لاکر ایک لاکھ مزیدنئے بے روزگار پیدا کیے جارہے ہیں، وزیر اعظم کی تقریریں لوگوں کا پیٹ نہیں بھر سکتی، خارجہ محاذ پر کہیں کشمیر کا ذکر نہیں کشمیر کی سرزمین پر شہید ہونے والوں کے ورثا قربانیوں کا نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں ،ہم ان کی اور فوج کی قربانیوں کو رائیگاں ہونے نہیں دیں گے،فوج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں مگر ان کی یکطرفہ طرفد اری ایک چنیدا ناکارا بھان متی کے کنبے کی پشت پناہی سے ان کا چہرہ جانبدار ہورہا ہے،فوج، سول بیوروکریسی کو قومی کردار سے وابستہ رہنا چاہیے، قوم کی رگ رگ میں پاک فوج سے محبت کا جذبہ ہے جسے وہ جانبدار کرکے ضائع کررہے ہیں، سید علی گیلانی کی قیادت میں کشمیری متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیریوں کا مجرم اسلام آباد بن گیا ہے جس کو بیدار کرنا ناگزیر ہے، پاکستان اس وقت مشکل ترین حالات سے دوچار ہے، اپوزیشن جماعتوں سے بھی شکایت اور گلہ ہے کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال دیا ہے، حق خودارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے جسے اپنا حق دلانے کے لیے عالمی ضمیر کردار ادا کرے۔ لیاقت بلوچ نے کراچی اور حیدر آباد کے بعد جیکب آباد میں ایمان پرور جہاد کشمیر مارچ پر ضلعی قیادت کو مبارکباد دی۔ مزکری نائب امیر اور سابق ایم این اے اسد اللہ بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر تاریخی و جغرافیائی طور پر سندھ کا حصہ ہے وہ کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا ہے کشمیر کی آزادی کے لیے سندھ کے عوام اپنا حق ادا کریں گے کیوں کہ سندھ کا مستقبل کشمیر سے وابستہ ہے۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ فوج کا کام پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنا ہے کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے جہاد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، فوج آگے بڑھے پوری قوم ان کے ساتھ ہوگی، کشمیر ی کبھی بھی بھارت کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہونے سے اسپتال،تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہیں جس کی وجہ سے روزانہ انسانی المیے جنم لے رہے ہیں۔
لیاقت بلوچ