لبنان: صدرعون کا عوامی دباؤ میں مستعفی ہونے سے انکار

110
لبنان: بارش کے باوجود عوام مسلسل آٹھویں روز حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں‘ صدر مشال عون قوم سے خطاب کررہے ہیں
لبنان: بارش کے باوجود عوام مسلسل آٹھویں روز حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں‘ صدر مشال عون قوم سے خطاب کررہے ہیں

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنانی صدر میشال عون نے مظاہرین کی جانب سے استعفے کے مطالبے پر اپنا منصب چھوڑنے سے انکار کردیا۔ ٹی وی پر قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت اور بدعنوانیوں نے ملک کو تباہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی چیز نہیں کہ راتوں رات اس میں تبدیلی آجائے۔ یہ عمل آئینی اصلاحات کے ذریعے ہونا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں میں کرپشن ہے اور اسی وجہ سے ملک میں بحران پیدا ہوا ہے۔ سیاست دانوں کو لوٹی گئی رقوم قوم کو واپس کرنی چاہییں۔انہوں نے وزیراعظم سعد حریری کی جانب سے پیش کردہ اقتصادی اصلاحات کو بحران کا واحد حل قرار دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اصلاحات میں ایک ایسا بل بھی شامل ہے جس کے تحت پارلیمان کے ارکان اور سرکاری حکام کو حاصل سیاسی استثنا ختم ہوجائے گا۔ صدر میشال کا کہنا تھا کہ وہ استعفے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے بحران کو حل کریں گے۔ انہوںنے اعلان کیا کہ وہ مظاہرین کے نمایندوں سے ملاقات اور ان کے مطالبات سننے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب صدر کے خطاب کے بعد بھی ملک بھرمیں آٹھویں روز احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ گزشتہ روز بیروت اور کئی علاقوں میں مظاہرے ہوئے، جب کہ جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا،جس میں 7مظاہرین زخمی ہوئے۔ نبطیہ کو حزب اللہ کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔ اس دوران فوج نے مداخلت کرکے مظاہرین کو منتشر کردیا۔ ادھر نبطیہ کے بلدیہ حکام نے بیان میں وضاحت کی کہ مظاہرین کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے ذمے دار وہ خود ہیں۔