پاکستانی ڈاکٹرز کا انوکھا کارنامہ

330

کراچی: لاڑکانہ کے رہائشی شاہ زیب کا بون میرو ٹرانسپلانٹ کے علاج کو 14ماہ مکمل ہوگئے۔

کراچی کے قومی ادارہ برائے امراض خون میں 14 ماہ قبل لاڑکانہ کے رہائشی شاہ زیب کا بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا گیا ، بچہ  پیدائشی طور پر قوتِ مدافعت سے محروم تھا اور کسی بھی جان لیوا انفیکشن سے موت واقع ہو سکتی تھی۔تاہم  پاکستانی میڈیکل  تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ 18 دن کے بچے کا کامیاب بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔

 قومی ادارہ برائے امراض خون (این آئی بی ڈی) پاکستان کا پہلا ادارہ ہے جہاں کی ٹرانسپلانٹ ٹیم اس بیماری کا علاج پچھلے 25 سال سے کام کررہی ہے۔

واضح رہے کہ ہر سال پاکستان میں 1 لاکھ  مریضوں کو اس علاج کی ضرورت پڑتی ہےلیکن ہر سال صرف250 مریضوں کا علاج ممکن ہوپاتا ہے ۔

دوسری جانب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت علاج کیلئے مالی معاونت فراہم کرےاور مزیدٹرانسپلانٹ سینٹر کا قیام عمل میں لائے اور  ان اداروں کو امداد فراہم کی جائے ۔