سندھ کے تمام اضلاع میں جبری مشقت قانون کے تحت ضلعی نگران کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیںویرجی کولہی

59

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کی انسانی حقوق وزارت نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ جبری مشقت کے خلاف قانون کے تحت ضلعی نگرانی کے لئے(وجیلنس)کمیٹیز بنائی جائے۔

یہ بات سندھ کے و زیراعلی کے مشیر برائے انسانی حقوق ویرجی کولہی نے سندھ اسمبلی کے اراکین کے ساتھ ایک اجلاس میں بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ سندھ صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی جانب سے جمعرات کے روزاسمبلی بلڈنگ کے کمیٹی روم میں منعقد ہ ایک بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔

پائلر کے جوائنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار شاہ نے اس موقع پر یورپی یونین کے جانب سے دی گئی تجارت کے لیے مرائتی اسکیم جی ایس پی پلس سے متعلق ایک بریفنگ دی۔

ویرجی کولہی نے بتایا کہ سندھ حکومت صوبے بھر کے تمام جیلوں میں قید ایسے قیدیوں کا ڈیٹا جمع کررہی ہے جو غربت کی وجہ سے جرمانے کی رقوم ادا نہیں کرسکتے جبکہ وہ اپنی قید کی مدت پوری کرچکے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس مد میں اس مالی سال کے لیے 35 کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین پیر مجیب الحق نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے انسانی حقوق اور مزدور حقوق سے متعلق کافی قانون پاس کیے ہیں مگر ان میں اکثر کے رولس نہیں بنا ئے گئے ہیں اور ان پر عمل درآمد کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں ہے۔

اس موقع پر پائلر کے ذوالفقار شاہ نے اراکین اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس کی سہولت 2014 میں حاصل کی جس کی وجہ سے پاکستانی برآمدات میں تقریبا ایک بلین یورو کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر برآمدات یورپ کے ممالک کو بھیجی جاتی ہے، جس میں سے اکثریت ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی سہولت صرف آٹھ ممالک کو میسر ہے، جن میں پاکستان شامل ہے۔ اس سہولت کو حاصل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے 27معاہدات پر پاکستان میں عمل درآمد کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے،

جن میں سے سات انسانی حقوق سے متعلق ہے اور آٹھ مزدور حقوق سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر دو سال کے بعد یورپی پارلیمنٹ میں ان کنوینشنز پر عمل درآمد کی صورتحال کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔اس موقع پر سندھ اسمبلی کے اراکین محمد قاسم سومرو، ہیر سوہو اور عدیل احمد نے بھی شرکت کی۔