غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،روشن شیخ

91
کراچی: سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ روشن شیخ ’آباد‘ کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں
کراچی: سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ روشن شیخ ’آباد‘ کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ روشن شیخ نے کہا ہے کہ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) انتہائی متحرک اور فعال ادارہ اور کراچی کی تعمیر و ترقی میں اس کا بہت بڑا کردار ہے،آباد غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کرے،حکومت سندھ ان غیر قانونی عمارتوں کی مسماری تک چین سے نہیں بیٹھے گی ،لیگل کنسٹرکشن کے لیے منصوبوں کی منظوری میں تاخیر سے غیر قانونی تعمیرات بڑھ رہی ہیں،کراچی کی 54 فیصد آبادی کچی آبادیوں پر مشتمل ہے،بین الاقوامی طور پر کیے گئے مطالعے کے مطابق کچی آبادیاں 70 فیصد ہوجائیں تو ان شہروں میں خانہ جنگی کے خطرات پیدا ہوجاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے آباد ہائوس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر آباد کے چیئرمین محسن شیخانی،وائس چیئرمین عبدالرحمن،آبادسدرن ریجن کے چیئرمین محمد علی راتاڑیا، ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل ظفر احسن،سابق چیئرمین آباد محمد حسن بخشی،جنید اشرف تالو،انور گاگئی، سعید اشرف اور آباد کے ارکان کی بڑی تعداد شریک تھی۔ روشن شیخ نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ ساڑھے 3 لاکھ گھروں کی طلب ہے،اس طلب کو حکومت اور نجی تعمیراتی شعبے پورا نہیں کریں گے تو کچی آبادیوں میں اضافہ ہوتا ہے،کوشش ہے کہ تعمیراتی پروجیکٹ کی منظوری کے لیے ون ونڈو آپریشن کے ذریعے 10 روز میں منظوری دی جائے۔انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آباد ایک پریشر گروپ بنے حکومت سندھ بھرپور سپورٹ کرے گی،آباد ہاٹ لائن قائم کرکے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلقہ حکام کو آگاہ کرے، جب تک غیر قانونی تعمیرات گرائی نہیں جائیں گی حکومت سندھ چین سے نہیں بیٹھے گی۔ روشن شیخ نے کہا کہ کراچی بدقسمت شہر ہے جسے کوئی اون نہیں کرتا،میگا سٹی میں روزانہ 14 ہزار ٹن کچرا جلایا جارہا ہے جس کی کسی کو کوئی فکر نہیں ،آباد کے ساتھ مل کر کراچی میں صفائی مہم کو کامیاب بنائیں گے۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے بتایا کہ سندھ میں جائدادوں کی ای رجسٹریشن کے لیے اقدامات کیے جارہے جس کے بعد سب رجسٹرار کے عہدے ختم ہوجائیں گے اور رجسٹریشن کے عمل میں کرپشن کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔انہوں نے ڈی جی ایس بی سی اے کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات روکنے اور قانونی تعمیرات کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ٹاسک فورس بنا کر آباد کو اس کی سربراہی دی جائے۔انہوں نے ڈی جی ایس بی سی اے سے کہا کہ تعمیراتی پروجیکٹ کی منظوری کے لیے منصوبے میں شجرکاری کی شرط بھی عاید کی جائے تاکہ شہر کو سرسبز وشادات بنایا جاسکے۔اس موقع پر آباد کے چیئرمین محسن شیخانی نے کہا کہ کراچی شہر کا سب سے بڑا مسئلہ غیر قانونی تعمیرا ت ہیں،غیر قانونی اور ناقص تعمیرات سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیرقانونی تعمیرات کرنے والے ناقص میٹریل استعمال کرتے ہیں اور 80/80 گز کے پلاٹ پر 8/8 منزلہ عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں،کراچی میں زلزلے کی صورت میں لاکھوں افراد کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آباد کے ارکان قواعد وضوبط کے بغیر کام شروع نہیں کرتے،پروجیکٹ کی منظوری کے لیے 18 اداروں سے اجازت لینی پڑتی ہے جس میں 2 سے ڈھائی سال لگ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری روکی رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں معاشی بحران کی صورت میں تعمیراتی شعبے کو مراعات دے کر معیشت کو اوپر اٹھایا جاتا ہے، کیوں کہ تعمیراتی شعبے کے متحرک ہونے سے 72 دیگر صنعتوں کا پہیہ بھی چلتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں جمع ہونے والے کچرے میں 30 فیصد کچرا تعمیراتی میٹریل کا ہے جس کے ذمے دار بھی غیر قانونی تعمیرات کرنے والے ہیں۔ محسن شیخانی نے کہا کہ کنورٹڈ پلاٹوں سے متعلق ابہام پیدا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے مطابق پہلے سے کنورٹڈ پلاٹوں پر کام جاری رکھا جاسکتا ہے ،عدالتی حکم کے بعد ڈی جی ایس بی سی اے نے تمام کنورٹڈ پلاٹوں پر کام روکنے کا حکم جاری کیا تاہم انہوں نے حکم واپس لے لیا ہے اور یہ کیس لا ڈپارٹمنٹ کو بھیجا گیا ہے ،امید ہے کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے گا ۔اس موقع پر محمد حسن بخشی نے بھی خطاب کیا۔