شق نمبر چھ

108

اعظم طارق کوہستانی
گزشتہ دنوں ٹوئٹر پر ایک واہیات قسم کا ٹرینڈ بنایا گیا۔ شق چھ کے نام سے یہ ٹرینڈ تحریک انصاف کی طرف سے بنایا گیا تھا، تحریک انصاف کے سیکڑوں کارکنان اور مخلصین ایک جعلی ہدایت نامے کو لیکر جمعیت علما ے اسلام (ف) کو مطعون کررہی تھی۔ ہدایت نامہ اپنے سیاق وسباق سے ہی جھوٹا لگ رہا تھا، اس میں شق نمبر چھ کے علاوہ مزید کئی نکات عجیب وغریب تھے جیسا کہ شق نمبر چار سے واضح ہورہا تھا، اس میں پولیس سے مقابلے کے لیے ڈنڈے تیار رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ آپ اس پر طرہ یہ دیکھیے کہ ہمارے وزیر موصوف فواد چودھری نے بھی اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’چھ نمبر ہدایت سے تو لگ رہا ہے کہ دھرنا ایمسٹرڈیم یا سان فرانسسکو کی پنک موومنٹ کا ہے۔ کمال ہی ارادے ہیں‘‘۔ فواد چودھری کا یہ ٹوئٹ لگ بھگ 22 گھنٹے تک ان کے اکاؤنٹ پر موجود رہنے کے بعد ڈیلیٹ کردیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کے سنجیدہ اور متین کارکنان بھی اسے دھڑا دھڑ چلائے جارہے تھے، تھوڑی دیر بعد جب جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے اس کی تردید ایک ویڈیو پیغام میں جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کی اور کہا کہ سوشل میڈیا پر جو ہدایت نامہ گردش کر رہا ہے وہ سراسر من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف سے وابستہ افراد نے یہ جعلی ہدایت نامہ خود سے بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کیا۔ اب یہاں پر آپ فسادی گروہ کی ایک حرکت دیکھیے کہ اُنہوں نے مولانا عبدالغفور حیدری کی اس ویڈیو کو بھی ایڈٹ کرکے چلایا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ حرکت تحریک انصاف کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے جمعیت علمائے اسلام ہی کے لوگ ملوث ہیں۔
اس حرکت کے بعد اندازہ ہوا کہ معاشرے کا اخلاقی معیار آج بھی وہیں ہے جہاں برسوں قبل تھا۔ جھوٹی خبروں کے ذریعے کردار کشی کو روکنا آخر کس کا کام ہے؟ اس ضمن میں وائس آف امریکا لکھتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کے اسد بیگ کہتے ہیں کہ ’فیک نیوز‘ کی بیخ کنی کے لیے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے اندر حقائق کی جانچ پڑتال کا ایک منظم نظام ہونا چاہیے۔ ان کے بقول صحافیوں میں یہ ادراک ہونا چاہیے کہ غلط خبر کا کس حد تک نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی روک تھام کی ذمے داری حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن یہ معاملہ بہت پیچیدہ ہے۔ اگر اس معاملے پر حکومت کوئی قانون سازی کرتی ہے تو اس کی زد میں درست خبر بھی آ سکتی ہے جب کہ اظہار رائے کی آزادی پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ اسد بیگ کہتے ہیں کہ درست خبر سے متعلق عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو صرف ان خبروں پر یقین کرنا چاہیے جو مستند اور باوثوق ذرائع سے ان تک پہنچتی ہوں۔ اسد بیگ کا کہنا تھا کہ بھارت میں گزشتہ ایک سال کے دوران سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے باعث 31 افراد کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔ ان کے بقول پاکستان میں اگر یہ سلسلہ ختم نہ ہوا تو یہاں بھی بھارت جیسی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں فیک نیوز کے حوالے سے ماضی میں بھی ایسی کئی شکایات سامنے آتی رہی ہیں جن میں مختلف سیاسی شخصیات کے خلاف جھوٹی خبریں وائرل ہوئیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور اداروں کے سوشل میڈیا ونگ اپنے مخالفین کے خلاف ایسی خبریں بناتے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر میں ہزاروں اکاؤنٹس کے ذریعے ان خبروں کو وائرل کردیا جاتا ہے۔ لیکن اب تک حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی باقاعدہ قانون سازی نہیں ہوسکی اور ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ بھی کم وسائل کی وجہ سے ایسی شکایات کی مکمل تحقیقات کرنے کے قابل نہیں ہے۔
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر میرے وہ دوست جو تحریک انصاف کے پُرزور حامی ہیں، اُنہوں نے ابتدا میں تو اس معاملے میں حقائق کو ماننے ہی سے انکار کردیا اور اُن الزامات کو دہرایا گیا جس کا فی الحال اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ وہی انداز ہے جو برسوں پہلے ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کے ساتھ روا رکھا تھا۔ جب ٹی وی ٹاک شوز میں ایم کیو ایم کے رہنمائوں سے کراچی میں دہشت گردی کا پوچھا جاتا تو وہ عمران خان کے سیتا وائٹ والے قصے کو لیکر بیٹھ جاتے… جمائما کی باتیں کرتے اور اصل ایشو غائب ہوجاتا، اب اس کام کا ٹھیکہ تحریک انصاف کو مل گیا ہے، چوں کہ اب ایم کیو ایم تحریک انصاف کی اتحادی ہے اس لیے خربوزے کو دیکھ کر خربوزے نے رنگ پکڑ لیا کیا ہوا۔
انعام رانا کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی ہارون رشید نے ’نائنٹی ٹو نیوز‘ میں نشر ہونے والے اپنے پروگرام کے دوران کہا کہ اگر وہ عمران خان کی جگہ ہوتے تو فوری طور پر فواد چودھری کو برطرف کر دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وفاقی وزیر کا اس طرح کا گھٹیا ٹوئٹ وزیرِ اعظم کے لیے شرمندگی کا باعث ہونا چاہیے۔ بات صرف یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے دستخط سے ایک جعلی نوٹی فکیشن بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا جس میں اسلام آباد پولیس اور دیگر اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ ’’لواطت‘‘ ایک غیر شرعی اور غیر قانونی فعل ہے اور آئندہ دنوں میں دھرنے کے دوران ایسی حرکات ہوسکتی ہیں۔ حمزہ شفقات نے اس نوٹی فکیشن کی
مکمل تردید کی اور کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا نوٹی فکیشن جعلی ہے۔ ان کے بقول اُنہوں نے اس حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو بھی خط لکھا ہے اور اپنے نام سے وائرل ہونے والے جعلی نوٹی فکیشن کی تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔ انعام رانا لکھتے ہیں: ’’خیال رہے کہ فواد چودھری اس سے قبل وفاقی وزیر اطلات و نشریات بھی رہ چکے ہیں اور اپنی وزارت کے دوران انہوں نے سوشل میڈیا پر ’فیک نیوز‘ کے خاتمے کے لیے ’فیک نیوز بسٹر‘ بنایا تھا۔ وزارتِ اطلات و نشریات کے تحت کام کرنے والا یہ بسٹر فوری طور پر جعلی یا من گھڑت خبر کی نشان دہی کر دیتا تھا۔ لیکن فواد چودھری کی اس ٹوئٹ پر فیک نیوز بسٹر کی جانب سے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا‘‘۔ لیکن یہاں پر ایک پہلو اور ہے، اس سے قبل تحریک انصاف کے ڈی چوک والے دھرنے اور مختلف جلسوں پر دیگر لوگوں کی طرح جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان بھی آپے سے باہر ہوئے تھے اور اسی طرح کی بازاری زبان کا استعمال ان کی طرف سے بھی عام تھا اور اب اس معاملے کے بعد بھی جے یو آئی کی طرف سے کچھ زیادہ اچھی زبان استعمال نہیں کی جارہی ہے۔
یہ رویے انتہائی خطرناک ہیں۔ معاشرے کو اخلاقی برہنگی کی طرف لیجانے میں سیکولر اور لبرلز کے علاوہ مذہبی طبقے کے لوگ بھی پیش پیش ہیں اور کہیں تو حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔ دہائیوں پہلے پیپلز پارٹی کے مساوات اخبار سمیت سیکڑوں رسائل وجرائد اور مذہبی طبقے کے بے شمار لوگوں نے اخلاقیات کی جو دھجیاں بکھیری تھیں اُس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا لوگوں کو اللہ رسول کا ذرا برابر خوف نہیں رہا؟ کیا یہ لوگ فاسقین کی بدترین مثال پیش نہیں کررہے ہوتے … آپ مولانا فضل الرحمن یا عمران خان سمیت کسی بھی سیاسی رہنما پر دیگر بہت سارے الزامات لگا دیجیے… لیکن براہِ کرم اپنے خبث باطن کے ذریعے اس قوم کو اخلاقی طور پر بانجھ ثابت نہ کیجیے۔