ترک افواج اور کرد باغیوں میں گمسان کی جنگ جاری

89

استنبول: ترک فوجوں کو شام میں باغی گروپ سیرین ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف)کی جانب شدید مزاحمت کا سامنا ، شدید جھڑپوں نے علاقے میں خوف و حراس برپا کردیا۔

ترک فوجوں کی شام کے علاقوں میں کارروائی کے دوران علاقے میں موجود افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کرد جنگجوؤں کے خلاف پیش قدمی کا سلسلہ جاری  ہے۔

ترک وزارت دفاع دفاع کی جانب سے ایک مختصر وڈیو بھی جاری کی گئی ہےجس میں شامی اراضی کے اندر ترک فورسز کے “کمانڈوز” کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب شامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ترکی کی زمینی فوج الرقہ صوبے کے شمال میں تل ابیض قصبے کے تحت آنے والے دیہات الیابسہ، المنبطح، الحاویہ اور بیر عاشق میں داخل ہو گئی ہیں ۔ ترک لڑاکا طیاروں نے الحسکہ صوبے کے شہر راس العین میں زمینی مداخلت کی کوششوں کے ساتھ فضائی حملے بھی کیے ہیں۔

ترک سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق سرحدی دیوار ختم کرنے کیلئےکارروائیاں جاری ہیں تا کہ ترکی کی فوج اور شامی جیشِ حُر پیش قدمی کرسکے۔

یاد رہے کہ شام کے شمال مشرق  حصے میں بدھ کے روز ترکی نے امریکی انخلاء کے بعد حملہ کیاتھا  جبکہ ترکی نے آپریشن کےآغاز کے بعد ترک طیاروں اور توپوں نے دریائے فرات کے مشرق میں 181 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوگان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری لڑائی شامی مہاجرین سے نہیں ہم ان کے میزبان ہیں ،ہماری لڑائی کرد باغیوں سے ہے جو علاقے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔

رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترک فوجی کارروائی کا اہم مقصد دہشت گروں کو اپنی سرحدوں سے دور کرنا ہے۔ ہماری جنگ شام میں موجود دہشت گرو تنظیموں سے ہیں، کرد ملیشیا ہمارے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم ان پر کبھی حملہ نہیں کریں گے جو خود اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ترک صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شام کے شمال مشرقی علاقوں میں بہت سے اہداف ان کے نشانے پر ہیں ۔ہماری فوجی کارروائی شام کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔

ترکی میں موجود شامی محاجرین کے متعلق انہوں نے کہا ہے کہ اگر یورپ ترک فوجی کارروائی کو شام پر قبضہ سمجھتا ہے تو ہم ترکی میں موجود 35 لاکھ شامی محاجرین کو یورپ بھیج دیں گے۔ہمیں پتا ہے ترکی نیٹو کا ممبر ہے لیکن ہم دہشت گردی پر خاموش نہیں رہیں گے۔

تاہم ترک فوجوں  کی جانب سے کی گئی کارروائی میں کے نتیجے میں ایس ڈی ایف کے 11 حملہ آور مارے جاچکے ہیں جبکہ  ترک فورسز کے 5 اہلکار شہید ہوئےہیں ۔ فضائی بم باری اور زمینی گولہ باری سے ایس ڈی ایف کے 33 ارکان زخمی بھی ہوئے۔

واضح رہے کہ جن علاقوں میں ترک افواج کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے ان میں القحطانيہ، عامودا، عين العرب، تل ابيض، راس العين، الدرباسيہ، القامشلی اور المالکیہ شامل ہے۔جو دریائے فرات کے مشرق سے لے کر دریائے دجلہ کے مغرب تک پھیلا ہوا ہے۔