بھارتی دہشت گرد تنظیم نے ہجومی تشدد کا الزام مسیحیت پر ڈال دیا

60
نئی دہلی: بھارتی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت تقریب سے خطاب کررہے ہیں
نئی دہلی: بھارتی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت تقریب سے خطاب کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی ہندو انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ’’لِنچنگ‘‘ (ہجوم کے ہاتھوں تشدد) ایک غیر ملکی لفظ ہے اور کچھ لوگ اس کی آڑ میں ملک اور ہندوؤں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ہندوؤں کے ایک تہوار کے موقع پر اپنی تقریر میں موہن بھاگوت نے ہرزہ گوئی کرتے ہوئے مسیحیوں کی مذہبی کتاب انجیل کے ایک واقعے کا حوالہ دیا جس میں ایک ہجوم ایک عورت کو سنگسار کرنے کے لیے جمع ہوا تھا۔ دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ نے ہندو انتہا پسندوں کی ملک میں جاری کھلے عام غنڈہ گردی پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہجومی تشدد ایک غیر ملکی تصور ہے اور یہ بھارت میں کبھی نہیں ہوا۔ کچھ لوگ اس کی آڑ میں ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس سے قبل بھارت کے کئی سرکردہ دانشوروں اور فنکاروں نے ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم کو جولائی میں ایک خط لکھا تھا۔ اس خط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ایک برادری کے لوگوں نے دوسری برادری کے ایک شخص کو مار ڈالا جب کہ اس طرح کے واقعات دونوں جانب سے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات 100 میں ایک دو ہوئے ہوں گے ۔ یہ بھی نہیں ہونے چاہییں لیکن کچھ طاقتیں انہیں دوسری شکل میں پیش کرتی ہیں۔ وہ ان واقعات کے لیے آر ایس ایس کا نام لیتے ہیں جبکہ سب کو پتا ہے کہ آر ایس ایس یہ سب نہیں کرتی۔ موہن بھاگوت نے عینی شاہدین، بھارتی حلقوں مقامی ور بین الاقوامی میڈیا سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری رپورٹس کو جھٹلاتے ہوئے مزید کہا کہ یہ ہمارے خلاف ایک سازش ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے موہن بھاگوت کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہجومی تشدد ملک میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ ایک بیماری بن چکا ہے۔ وزیر اعظم کو اس کے خلاف بولنا چاہیے اور اگر وہ خاموش رہے تو اس جمہوریت کا بس خدا ہی مالک ہے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی رہنما برندا کرات نے بھی موہن بھاگوت کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہجومی تشدد اگر غیر ملکی تصور ہے تو پھر آر ایس ایس اور ہندوتوا کی تنظیمیں اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پشت پناہی کے سبب ہجومی تشدد کرنے والے قانون کی گرفت میں نہیں آتے جس کے سبب ان واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔