امریکا میں پولیو جیسی پراسرار بیماری کا حملہ‘ ماہرین پریشان

56
واشنگٹن: امریکا میں پولیو جیسی علامات ظاہر ہونے کے بعد بچوں کا معاینہ کیا جا رہا ہے
واشنگٹن: امریکا میں پولیو جیسی علامات ظاہر ہونے کے بعد بچوں کا معاینہ کیا جا رہا ہے

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں پولیو سے مماثل بیماری نے ماہرین کی نیندیں اڑا دیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2020ء میں یہ بیماری امریکا میں ایک بار پھر وبائی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ پولیو سے ملتی جلتی علامات والی بیماری کو ’اے ایف ایم‘کہا جاتا ہے۔5برس کے عرصے میں یہ بیماری 3مرتبہ وبائی صورت اختیار کرچکی ہے۔ بیماری کا پورا نام ’ایکیوٹ فلیسڈ میلائیٹس‘ ہے، جو ریڑھ کی ہڈی اور مرکزی اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر متاثرہ فرد کے بازوؤں اور ٹانگوں کو شدید کمزور کردیتی ہے۔ اگرچہ اس کے اثرات وقتی ہوتے ہیں جو چند روز میں ختم ہوجاتے ہیں لیکن بچوں میں اس کا دورانیہ کئی ماہ تک بھی دیکھا گیا ہے۔ سائنس دان اب تک نہیں جان پائے ہیں کہ بیماری کی اصل وجہ کیا ہے، لیکن تازہ تحقیقات کے بعد بیماری میں وائرس کی ایک خاص قسم ’اینٹیرو وائرس‘ سے تعلق رکھنے والے چند وائرسوں کی نشاندہی ہوئی ہے،تاہم اس خیال خیال کی حتمی تصدیق ہونا باقی ہے۔ 2014ء کے بعد سے اس بیماری کے جتنے بھی مریض سامنے آئے، ان میں سے اکثر کو بخار، کھانسی، نزلہ، اُلٹی اور دست کی شکایات بھی تھیں۔ 2014ء میں اس کے 120 کیس سامنے آئے، 2016ء میں یہ تعداد بڑھ کر 153ہوگئی، جب کہ 2018ء کی وبائی صورتِ حال میں اس بیماری نے 236افراد کو متاثر کیا۔ پولیو کی طرح اے ایف ایم کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت بچوں کی تھی۔