جیل بھیجنا وزیر اعظم کا کام نہیں

90

وزیراعظم عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے جس فضامیں اور جن خیالات میںمگن تھے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ اب بھی اسی کیفیت میں ہیں ۔ ان کے بارے میں ان کے مخالفین کہاکرتے ہیں کہ وزیراعظم کو ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے حکومت بنائے ہوئے لیکن وہ اب تک کنٹینرو الی کیفیت میںہیں ۔ ایک بار پھر انہوں نے اس کیفیت کااظہار کیا ہے کہ کاش 500 کرپٹ جیل بھیج سکتا ۔ انہوں نے حسرت بھرے انداز میں فرمایا ہے کہ چینی صدر نے وزارتی سطح کے چار سو افراد کو سزا دلوائی ہے ۔ وزیر اعظم نے شکوہ کیا کہ پاکستان کا نظام مشکل ہے اس لیے یہاں سرمایہ نہیںآتا ۔ اسی لیے انہوں نے اعلان کیا ہے کہ سی پیک میںوزارتوں کا عمل دخل روکنے کے لیے اتھارٹی قائم کی ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان کے رویے سے قوم کے سنجیدہ طبقات شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔ وہ جب بھی ملک سے باہر جاتے ہیں پاکستانیوں کو چور بد عنوان اور بے ایمان قرار دیتے ہیں انہیں اب تک تسلی نہیں ہوئی ہے چین جا کر بھی فرما رہے ہیںکہ پاکستان میںکرپشن ہے لیکن جس طرح مرغی ، انڈے ، کٹوںکی فروخت وغیرہ جیسی معاشی سرگرمیاں پیش کر چکے ہیں اب چین کے چار سو کے جواب میں پاکستان میں پانچ سو بد عنوانوں کو جیل بھیجنے کی خواہش ظاہرکر رہے ہیں ۔ وزیر اعظم صاحب چین ڈیڑھ پونے دو ارب لوگوں کا ملک ہے وہاں صرف چار سو کرپٹ ملے آپ22 کروڑ کے ملک میںپانچ سو کو جیل بھیجنا چاہتے ہیں ۔ چلیں اپنی خواہش پوری کرنی ہو تو پہلے وزارتی سطح کے لوگوں کی گرفت شروع کر دیں ۔ ان کے ارد گرد اس سطح کے بہت سے لوگ مل جائیںگے لیکن وزیر اعظم کا رویہ تو اس کے بر خلاف ہے ۔ جو ان کی وزارتی سطح کے لوگوںمیں شامل ہو گیا یا ان کی پارٹی کے قریب آیا اس کے خلاف کرپشن کے مقدمات ہی ختم ہو جاتے ہیں ۔ ایک طویل فہرست ہے ایسے لوگوں کی ۔ وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پر نیب کے مقدمات تھے۔ حکومتی وزارتی سطح پر آتے ہی مقدمات کی سماعت رُک گئی ۔ ڈاکٹر شفقت محمود ، عبدالرزاق دائود ، جہانگیر ترین، فواد چودھری ،وزیر اعظم کی تینوں بہنیں ، وفاقی وزیر پرویز خٹک ، شیخ رشید ، غلام سرور خان ، زبیدہ جلال ، خالد مقبول صدیقی ،خسرو بختیار ، علیم خان کس کس کا ذکر کیا جائے سب کے خلاف مقدمات ہیں ۔ لیکن مقدمات چل رہے ہیں تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی والوں کے… وزیر اعظم کو چاہیے کہ یہ کار خیر اپنے گھر سے شروع کریں ۔ یہ تو درجن بھر سے زائد وزارتی سطح کے لوگ ہیں ان کے علاوہ بھی ارکان اسمبلی ہیں جن کے خلاف کیسزہیں ۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے لیکن وزیر اعظم ایک دو باتیں ایک مرتبہ سمجھ لیں ۔لوگوں کوجیل بھیجنا اور سزائیں دلوانا وزیر اعظم کا کام نہیں ہوتا ۔ ان سارے کاموں کے لیے عدالتیں اور ادارے موجودہیں ۔ دوسری بات یہ کہ بیرون ملک جا کر اپنے وطن کے بارے میں ایسی بے معنی گفتگو وزیر اعظم کا کام نہیں ۔ امریکا جا کر بھی انہوں نے نواز شریف کے اے سی بند کرنے اور ٹی وی نکالنے کی باتیں کی تھیں ۔ اگر وہ امریکا جاکر کشمیر کامسئلہ حل کرانے کی سنجیدہ کوششیںکرتے ، چین جا کر بھارت پر چین سے معاشی اور فوجی دبائو دلوانے کی کوشش کرتے تو یہ ان کا کام تھا ۔ لیکن برعظیم کے دو بڑے ممالک کی بد نصیبی ہے کہ ان کو غیر سنجیدہ حکمران میسر آئے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم بھی غیر ذمے داراور غیر سنجیدہ ہیں الٹے سیدھے بیانات دیتے ہیں اور ان کی کابینہ واہ واہ کرتی ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم عمران خان اُلٹی سیدھی تجاویز دیتے ہیں اور ان کی کابینہ اورنیب زدہ وزراتی سطح کے لوگ واہ واہ کرتے ہیں ، تالیاں پیٹتے ہیں ۔ یہ سنجیدہ رویہ نہیں ہے ۔ وزیر اعظم کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ چین میںجن کرپٹ لوگوں کوجیل بھیجنے کی بات وہ کر رہے ہیں ان کی کرپشن چینی حکومت کی ناک کے نیچے جاری تھی ۔ ایک شہر کے میئر کے 13ٹن سونا جمع کرنے کی خبریں عام ہیں اگریہ درست ہیںتو اس نے یہ سونا دو دن میں توجمع نہیں کیا تھا ۔برسوںسے یہ کام ہو رہا ہوگا ۔ یہ تو چین کے گلے سڑے نظام کا پتا دے رہا ہے کہ ایک میئرٹنوں کے حساب سے سونا جمع کر رہا تھا اور حکومت کو پتا ہی نہیں چلا… یا وہاں بھی وہی معاملہ ہے جو پاکستان میں ہے کہ اپنا چور زندہ باد دوسرے کا چور مردہ باد ۔ چین سے سیکھنے کے بارے میں وزیر اعظم کا بیان بھی افسوس ناک ہے ۔ کیا وزارتی سطح کے چار سو افراد کو کرپٹ بنانے کا طریقہ سیکھیںگے ۔ کپتان صاحب وزیر اعظم بنیں یا راستہ دیں ۔ عمران خان اورنیب کے سربرا دونوں یاد رکھیں کہ یہ کام ان ملکوں میں ہوتے ہیں جہاں آمریت ہو۔جن ملکوں میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہووہاںیہ سب نہیں چلتا۔