صوابی‘ پیرا میڈیکس اور ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری

30

صوابی(آئی این پی )صوبہ بھر کی طرح ضلع صوابی میں بھی سرکاری ہسپتالوں میں پیرا میڈیکس اور ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ اس صوبے کے غریب عوام کو مفت علاج کی سہولت دی جائے نہ کہ سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کی جائے۔ محکمہ صحت کو ٹھیکہ داروں کے حوالے نہ کیا جائے پر تشدد واقعات میں براہ راست ملوث وزیر صحت اور پولیس اہلکاروں کو فی الفور عہدے سے ہٹایا جائے اور ان واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ نوشیر وان برکی اور تمام موجودہ بورڈ آف گورنرز پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کا اطلاق کیا جائے اور جو بے قاعدگیاں اور کرپشن ہوئی ہیں ان کی انکوائری کرائی جائیں انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتال پاکستان کے غریب عوام کے لیے ہے یہ حکومتی نجکاری کے لیے نہیں پاکستان کے عوام کسی صورت سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کرنے دینگے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت محکمہ صحت میں جو ایکٹ لاگو کر رہی ہے اس کے تحت محکمہ صحت کی نجکاری کی جائے گی ۔ ہسپتال ایک کارپوریٹ باڈی ہو گی جو اپنا خرچہ خود برداشت کر کے یہ خرچہ عوام سے براہ راست مہنگے علاج و معالجہ کی صورت میں وصول کریگا اور اسی طرح ہسپتالوں کو فنڈز کی بجائے قرض ملے گا۔ قرض واپس کرنے کا طریقہ وزیر صحت نے اسمبلی میں واضح کر دیا ہے۔یا تو مریض کے پیسوں سے( پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ) کے ذریعے یا ہسپتال بیچنے سے ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کے شق نمبر18پیرا2سے یہ بات واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت ہر ضلع کے بورڈ آف گورنرز میں سیاسی طور پر حکومتی پارٹی سے وابستہ نمائندوں کو ممبر بنایا جائیگا اس سے ہسپتالوں میں سیاسی مداخلت کو مزید پروان چڑھایا جائیگا اس لیے حکومت کا یہ ایکٹ عوام کے مفاد میں نہیں اور اس سے غریب عوام پر علاج معالجے کی سہولیات بند ہو جاے گی۔