موتیا کا علاج پکنے تک نہیں کرانا چاہیے‘ڈاکٹر منور علی‘بیربل گنانی

97

کراچی ( رپورٹ : محمد انور )ممتاز ماہرین امراض چشم ڈاکٹر منور علی اور ڈاکٹر بیر بل گنانی نے وضاحت کی ہے کہ موتیا کا آپریشن اس وقت ناگزیر ہوجاتا ہے جب تک پک نہ جائے اور نظر آنے میں مشکلات پیدا ہوجائے یا نظر انتہائی کمزور ہو جائے۔ نمائندہ جسارت نے آنکھوں میں موتیا پیدا ہوجانے کی بڑھتی ہوئی شکایات اور اس کے فوری آپریشن کے مشورے کے حوالے سے ممتاز ماہر چشم اسپنسر آئی ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ اور سابق ڈائریکٹر میڈیکل و ہیلتھ سروسز کے ایم سی ڈاکٹر بیرل بل گنانی سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ موتیا کو نکالنے کے لیے آپریشن فوری ناگزیر اس وقت ہوجاتا ہے جب بینائی واضح طور پر کمزور نہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت ماہر امراض چشم موتیا کا آپریشن صرف اس صورت میں کرتے ہیں جب مریض کو دکھائی دینا غیر معمولی کم ہوجائے۔ البتہ ایسے مریض جو ڈرائیور ہوں یا رات کو گاڑی چلاتے ہوں انہیں نظر کمزور ہونے کے بعد آنکھوں میں موتیا کی موجودگی کی صورت میں آپریشن کرانے کا مشورہ دیا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر بیربل کا کہنا تھا کہ موتیا کا آپریشن سو فیصد اور یقینی کامیاب ہوجائے اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ اسی وجہ سے انڈور کام کرنے والوں کو موتیا بننے کے باوجود ہم فوری آپریشن کرانے کا مشورہ نہیں دیا کرتے۔ البتہ ایسے تمام مریضوں کو جو رات کو ڈرائیور کرتے ہیں یا کوئی دیکھنے سے متعلق کام کرتے ہیں اور جن کی آنکھوں میں موتیا کی موجودگی اور نظر میں کمزوری واضح ہوجائے انہیں بلا تاخیر آپریشن کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں کہ موتیا کے آپریشن کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کہ اس کے بعد نظر میں مثبت فرق پڑ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آنکھوں کا تو کوئی متبادل نہیں ہوتا۔