رانا ثنا اللہ کا مقدمہ

244

وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی قسمیں کھا کھا کر کہہ رہے ہیں کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کا مقدمہ بالکل درست ہے، ایسا نہ ہو تو مجھے کلمہ نصیب نہ ہو۔ انہوں نے مختصر بیان میں 20 مرتبہ یہ انکشاف کیا کہ انہیں اللہ کو جان دینی ہے جیسے دوسرے اللہ کو جان نہیں دیں گے۔ جہاں تک سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ پر مقدمے کا تعلق ہے جن کے پاس سے مبینہ طور پر 15 کلو ہیروئن برآمد کی گئی تو اس بارے میں اے این ایف اور سرکار اب تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکی۔ دعویٰ تو یہ ہے کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی کی تین ہفتے سے نگرانی کی جارہی تھی اور پھر ایک مخبر نے اطلاع دی کہ وہ اپنی گاڑی میں منشیات لے کر فیصل آباد سے لاہور جارہے ہیں۔ ایک مقام پر ان کی گاڑی روکی گئی تو انہوں نے خود ہی منشیات کی نشاندہی کردی۔ اے این ایف کے پاس جو وڈیو ریکارڈنگ ہے وہ لاہور سے باہر ایک چیک پوسٹ کی ہے جہاں سے رانا ثنا کی گاڑی گزر رہی ہے۔ اس کے سوا کوئی ثبوت اب تک پیش نہیں کیا گیا۔ رانا ثنا 10 پیشیاں بھگت چکے ہیں لیکن اب تک چالان پیش نہیں کیا گیا۔ اے این ایف کی عدالت کے جج کو تبدیل کردیا گیا اور اس کے بعد اب تک چار پراسیکیوٹرز بدلے جا چکے ہیں۔ شہریار کہتے ہیں کہ سارے ثبوت موجود ہیں جو عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ تو پیش کیوں نہیں کر دیتے۔ رانا ثناء اللہ پر یہ الزام بھی ہے کہ ان کے افغان منشیات فروشوں سے بھی رابطے تھے۔ لیکن اب تک تو یہ صرف الزام تراشی ہے۔ فیصلہ عدالت کو کرنے دیں لیکن حکومت مقدمے کی پیروی تو کرے۔ ہر پیشی پر پراسیکیوٹر تبدیل کر دینا مذاق ہے۔ معاملہ اِدھر یا اُدھر کریں۔ مجرم ہیں تو سزا سنائیں ورنہ رہا کریں۔ شہریار آفریدی کو خدا کو جان دینی ہے۔