خیرپور، اسکارپ کی ایکسویٹر مشینیں کباڑ میں تبدیل

87

خیرپور (نمائندہ جسارت) محکمہ واپڈا اسکارپ ایریگیشن ورکشاپ ڈویژن خیرپور کی کروڑوں روپے مالیت کی 2 ایکسیویٹر مشینیں سندھ حکومت اور محکمہ کی چشم پوشی کے باعث کباڑ میں تبدیل ہوگئی ہیں، خان آٹوز پیٹرول پمپ کے منیجر حسن رضا آرائیں کی جانب سے متعدد بار محکمہ اسکارپ ورکشاپ ڈویژن، پروجیکٹ ڈائریکٹر واپڈا اسکارپ کو تحریری و زبانی آگاہی دی کہ ان کے محکمے کی کروڑوں روپے مالیت کی ایک ایکسیویٹر مشین خان آٹوز پیٹرول پمپ کے پلاٹ پر گزشتہ تین دہائی سے کھڑی کھڑی کباڑ کی شکل اختیار کرچکی ہے، جبکہ ایکسی ویٹر کے قیمتی آلات محکمہ کے ملازمین نے نکال کر فروخت کردیے ہیں کا بھی انکشاف کے متعلق بھی محکمہ کے ارباب اختیار کو اطلاع دی لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔ خان آٹوز پیٹرول پمپ کے منیجر حسن رضا آرائیں نے بتایا کہ ایکسی ویٹر مشین کو محکمے کے افسران نے بیگار سے بچانے کے لیے یہاں کھڑی کی تھی اور پھر پلٹ کر خبر تک نہیں لی کہ ایکسی ویٹر مشین کس حال میں ہے اور محکمہ اسکارپ ورکشاپ والوں نے ایکسی ویٹر مشین کو ورکشاپ میں لے جانا بھی گوارا نہیں کیا، جبکہ ایک ایکسی ویٹر مشین خیرپور نارو ڈھوڑو روڈ پر بھی کھڑی کھڑی کباڑ میں تبدیل ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے محکمہ واپڈا اسکارپ کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس سلسلے میں سول سوسائٹی، شہریوں لالا حاجی عبدالغفار شیخ، الفرقان شیخ، آغا شیر عالم، شمع الدین عباسی شیخ، فیاض حسین گوپانگ، میر محمد بلوچ، راشد علی جتوئی، شہباز ڈنو جتوئی، اسحاق سومرو سمیت دیگر نے چیف جسٹس آف پاکستان،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، چیئرمین قومی احتساب بیورو، چیئرمین انٹی کرپشن سندھ، گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، چیف سیکرٹری، وزیر آبپاشی سمیت دیگر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ واپڈا اسکارپ ایریگیشن ورکشاپ ڈویژن خیرپور کی کروڑوں روپے مالیت کی 2 ایکسیویٹر مشینوں کو نقصان سے بچایا جائے۔