جعلی اکاؤنٹس ،آصف زرداری،فریال تالپور پر فرد جرم عاید نہ ہوسکی

52

اسلام آباد (صباح نیوز) سابق صدر آصف علی زرداری اوران کی ہمشیرہ ڈاکٹر فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان پر جعلی بینک اکائونٹس کے ذریعے میگا منی لانڈرنگ کیس میں تمام ملزمان کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم نہ کرنے کی بنیاد پر فرد جرم عاید نہ ہو سکی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ڈاکٹر فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں 22اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عاید کی جائے گی اور اس حوالے سے تمام ملزمان کی حاضری یقینی بنائی جائے۔دوران سماعت سابق صدر آصف علی زرداری اور ڈاکٹر فریال تالپور سمیت دیگر25 ملزمان کی حاضری لگوائی گئی۔ عدالت نے استفار کیا کہ انور مجید کہاں پر ہیں جواس مقدمہ میں نامزد ملزم ہیں ۔عدالت کو بتایا گیا کہ انور مجید اس وقت کراچی میں ہیں۔ اس پر عدالت نے پوچھا کہ اس کے کیا قانونی اثرات ہوں گے۔ اس پر وکیل سینیٹر فاروق حمید نائیک نے کہا کہ انہیں حاضری سے استثنا دیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کے لیٹ آنے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ صبح پہلے رپورٹ کیا کریں ، یہ نہیں ہو گا کہ سب یہاں آپ کا انتظار کرتے رہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ یونس قدواوی اور اعظم وزیر کے ریڈ وارنٹ کی درخواست وزارت داخلہ کو دی تھی۔ بیرون ملک موجود ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سماعت کے بعد پی پی پی چیئرمین بلاول زرداری، آصفہ زرداری، بختاور زرداری اور دیگر پی پی پی رہنمائوں نے آصف زرداری اور ڈاکٹر فریال تالپور سے ملاقات کی۔ بلاول نے مولانا فضل الرحمن سے ہونے والی اپنی ملاقات سے آگاہ کیا، اس دوران آزادی مارچ پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میرے ڈاکٹرز نے کہا ہے مجھے اسپتال منتقل کر کے اسے سب جیل قراردیا جائے۔میری شوگر لو ہو جاتی ہے، جیل انتظامیہ تو مجھے بروقت اسپتال بھی منتقل نہیں کر سکتی۔ مجھے کچھ ہوتا ہے تو جیل والوں کو تو کچھ سمجھ بھی نہیں آتا۔ دل کا مریض ہوں ، جیل والے2 گھنٹے میں اسپتال بھی نہیں پہنچا سکتے۔ میڈیا کی جانب سے سے سوال پر کہ مولانا فضل الرحمن نے کال دی ہے کیا وہ اس مشن میں کامیاب ہو جائیں گے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ ، ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔حکومت کو مزید وقت دینا ملک کے مفاد میں نہیں، تمام جمہوری پارٹیوں کو اب مل کر عملی جدوجہد کرنا ہو گی۔علاوہ ازیں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار ملزم عبدالغنی مجید کی ایک اور انکوائری میں گرفتاری کے لیے درخواست احتساب عدالت میں دائر کر دی ہے ۔ نیب نے عبدالغنی مجید کے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کے لیے درخواست دائر کی ہے ۔نیب حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم عبدالغنی مجید سے گنے کے کاشتکاروں کی سبسڈی میں خورد برد کی تفتیش کرنی ہے ۔ عدالت نے کیس کا مکمل ریکاڑد طلب کرلیاجبکہ عبدالغنی مجید کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ مزید برآںسابق وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس اکرم خان درانی کے خلاف نیب کی جانب سے تحقیقات کی گئیں۔ اکرم خان درانی کے داماد و سابق ایم پی اے عرفان درانی نیب راولپنڈی میں پیش ہوئے، نیب نے عرفان درانی سے اکرم درانی کے ساتھ کاروباری تعلقات کے حوالے سے سوالات کیے۔ ذرائع کے مطابق اکرم خان درانی پر 2 ہاؤسنگ منصوبوں میں بھی کرپشن کا الزام ہے۔ جمعرات کو اکرم درانی کے قریبی دوست شفا شاہ، سابق ایم پی اے ریاض خان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ دوسری جانب نیب راولپنڈی نے اس کیس میں اکرم درانی کے بیٹے زاہد درانی کو بھی طلب کر رکھا ہے جبکہ اکرم خان درانی کو 7اکتوبر کونیب میں پیش ہونا ہے۔
ریمانڈ