حیدر آباد،لیڈی ہیلتھ ورکرز کی وزیر اعلیٰ کے گھر کے سامنے دھرنے کی دھمکی

99

 

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کی چیئر پرسن بشریٰ آرائیں نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ اور سندھ لیڈی ہیلتھ پروگرام کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ذوالفقار دھاریجو سازش کے تحت محکمہ صحت کی جانب سے ملنے والے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے صوبائی آفس کو خالی کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز 1992ء سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کیے جس کے بعد سیکرٹری صحت فضل اللہ پیچوہو نے سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کو گدو اسپتال حیدرآباد کے قریب 2018ء میں ایک بنگلہ سرکاری طور پر الاٹ کیا تھا جس میں پروگرام کا صوبائی آفس قائم ہے، لیکن حکومت سندھ نے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام سندھ کے صوبائی پروگرام منیجر ڈاکٹر ذوالفقار دھاریجو کو سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کا اضافی چارج دے کر انہیں نوازا جا رہا ہے، جنہوں نے کمشنر حیدر آباد کے ساتھ مل کر بینظیر بھٹو کے شروع کیے گئے پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے سازشیں شروع کردی ہیں اور پروگرام کے صوبائی آفس کو ختم کرکے من پسند شخص کو الاٹ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت کمشنر حیدرآباد نے آفس خالی کرنے کا زبانی حکم جاری کیا ہے، کمشنر کے حکم سے ظاہر ہورہا ہے کہ جس محکمے میں عورتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اُس محکمے کو جان بوجھ کر پریشان کیا جائے، ہم اس طرح کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اگر آفس خالی کرانے کا حکم واپس نہیں لیا گیا تو پیر 7 اکتوبر سے سندھ بھر کی لیڈی ہیلتھ ورکرز کام چھوڑ ہڑتال کر کے کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ کے گھر کے سامنے دھرنا دیں گی، جس کی تمام تر ذمے داری کمشنر حیدرآباد عباس بلوچ اور پی ڈی ڈاکٹر ذوالفقار دھاریجو پر عائد ہوگی۔