چین ہائپر سونک نیوکلئر میزائل منظر عام پر لے آیا

202
بیجنگ: کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار کو 70برس مکمل ہونے پر منعقد کی گئی پریڈ میں ہائپر سونک نیوکلیئر میزائل پیش کیا جارہا ہے
بیجنگ: کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار کو 70برس مکمل ہونے پر منعقد کی گئی پریڈ میں ہائپر سونک نیوکلیئر میزائل پیش کیا جارہا ہے

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کو 70 برس مکمل ہونے پر چین اپنا ہائپر سونک نیوکلیئر میزائل منظر عام پر لے آیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق منگل کے روز اس حوالے سے ملک بھر میں وسیع تر تقریبات منعقد کی گئی، جن میں دارالحکومت بیجنگ میں ایک بہت بڑی فوجی پریڈ کا اہتمام بھی کیا گیا۔ تیان من اسکوائر میں ہونے والی اس پریڈ میں 15 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا اور اس دوران جدید ترین ہتھیاروں کی نمایش کی گئی۔ ان ہتھیاروںمیں ہائپر سونک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اور ڈروننمایاں تھے۔۔ پیپلز لبریشن آرمی نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ڈی ایف 41 نیوکلیئر انٹرکونٹی نینٹل بیلسٹک میزائل کی نمایش کی گئی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ امریکا سمیت دنیا کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی مار 12 سے 15 ہزار کلومیٹر ہے اور یہ دنیا کا اب تک طویل مسافت تک مار کرنے والا ہتھیار ہے۔ یہ بہ یک وقت کئی جوہری بم لے جاسکتا ہے اور صرف 30 منٹ میں امریکا کو نشانہ بناسکتا ہے۔ فوجی پریڈ میں ڈی ایف 17 ہائپر سونک میزائل بھی پیش کیا گیا، جو ہر قسم کی امریکا اور اس کے اتحادیوں کی اینٹی میزائل شیلڈز کو پھاڑ سکتا ہے۔ ہزاروں شائقین اس پریڈ کو دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے خصوصی خطاب کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت چین اور اس کی ترقی کو نہیں روک سکتی۔ وہ اس دوران عین اسی مقام پر کھڑے تھے جہاں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ نے یکم اکتوبر 1949 کو کھڑے ہو کر عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ صدر شی جن پنگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی طاقت اس عظیم قوم کے وقار کو متزلزل نہیں کرسکتی اور کوئی طاقت چین کے لوگوں کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین کو ایک ملک دو نظام کی پالیسی پر کاربند رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہانگ کانگ اور مکاؤ کی خوشحالی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتے۔ خطاب کے بعد صدر شی نے فوجی دستوں کا معاینہ کیا، جس کے بعد ملکی تاریخ کی سب سے بڑی پریڈ کا مظاہرہ کیا گیا، جس میں 160 طیاروں اور 580 ٹینکوں نے حصہ لیا۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں جشن کا آغاز بیجنگ میں توپوں کی سلامی سے ہوا، جس کے بعد پریڈ کی گئی۔ اس کے بعد قومی پرچم لہرایا گیا۔ قومی دن کے موقع پر شام کو بیجنگ میں ہونے والی تقریب میں شاندار آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا، اور 70 ہزار کبوتر اور 70 ہزار غبارے فضا میں چھوڑے گئے۔ دوسری جانب جاپانی کابینہ کے چیف سیکرٹری یوشی ہیدے سوگا نے کہا ہے کہ ایشیا اور دنیا میں امن و خوشحالی کے حصول کے لیے جاپان اور چین پرمشترکہ بھاری ذمے داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ امر ہے جس کی بین الاقوامی برادری کو توقع ہے۔ سوگا نے یہ بات چین کے قیام کی سترویں سالگرہ پر منگل کے روز نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ جاپان دوطرفہ تعلقات کو بلند تر سطح پر لے جانا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ تعطل کے شکار معاملات کو حل کر کے ایک نئے دور میں داخل ہوا جائے، اور کئی شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو بڑھایا جائے۔