دنیا آج ورلڈ ریبیز ڈے منارہی ہے اور پاکستان میں کتے کاٹنے سے لوگ مررہے ہیں،

126

کراچی(اسٹاف رپورٹر) دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی 28ستمبر کوورلڈ ریبیز ڈے منایاگیا،ریبیز جسے عرف عام میں باؤلاپن بھی کہتے ہیں اس حوالے سے خصوصی تقریبات،واک، کانفرنسز، ورکشاپس، سیمینارز اور دیگر آگاہی پروگرامات کا انعقاد کیاگیا،

ماہرین طب نے بتایاکہ ریبیز باؤلے کتے کے کاٹنے سے انسان میں پھیلنے والی ایک وائرل بیماری ہے جو دماغ کی سوجن کا سبب بنتی ہے۔ گرم خون والے جانوروں اور کتوں میں پایاجانیوالا یہ وائرس زو نوٹک بیماری ہے،

یہ وائرس پالتو جانوروں سمیت جنگلی جانوروں و کتوں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہو کر سنٹرل نروس سسٹم کو تباہ کر دیتاہے جس کے باعث دماغ کے کام چھوڑنے سے انسانی موت واقع ہو جاتی ہے،اس سے آگاہی کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں 28ستمبر کو ریبیز ڈے منایا جارہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے دنیا بھر میں آج ریبیز ڈے منایا جارہا ہے۔

دوسری جانب دنیا ایک طرف ورلڈ ریبیز ڈے منا رہی ہے تو دوسری طرف پاکستان میں غریب لوگ بچارے کتوں کے کاٹنے کے بعد ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے اسپتالوں میں جانیں دے رہے ہیں،

یاد رہے کہ دنیا بھر میں اس دن کو منانے کا مقصد ہر سال کتے کے کاٹنے سے لگنے والی بیماری کی روک تھام کے بارے میں شعور بیدار کرنے اور اس خوفناک بیماری کو شکست دینے کے لئے احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہوتا ہے،

پاکستان کو سالانہ 10 لاکھ اینٹی ریبیز ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے جس کا صرف 7 فیصد ملکی سطح پر تیار کیا جاتا ہے پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی ہونے کی وجہ سے ہر سال 5 ہزار افراد کی ذندگیاں ختم ہوجاتی ہیں،سندھ بھر میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بار بار آگاہ کیے جانے کے باوجود ویکسین کی کمی اور احتیاطی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے خطرناک حد تک اضافہ قابل تشویش ہے،

جناح اسپتال کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق اسپتال میں سندھ بھر میں ریبیزکے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق سندھ میں کتوں کے کاٹنے سے 9 ماہ کے دوران جناح اسپتال کراچی میں 7 ہزار 741 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،

کتوں کے کاٹنے کاشکارافراد میں 6 ہزار 779 مرد جبکہ 962 خواتین شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنوری میں 760، فروری میں 918، مارچ میں 1180، اپریل میں 1049، مئی میں 836، جون میں 768، جولائی میں 855، اگست میں 804، ستمبر میں 571 میں کتوں کے کاٹنے کے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں،

محکمہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق رواں برس کے پہلے پانچ ماہ میں 69 ہزار سے زیادہ کتے کے کاٹے کے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سب سے زیادہ واقعات لاڑکانہ اور سب سے کم کراچی ڈویڑن میں رپورٹ ہوئے ہیں،
لاڑکانہ ڈویڑن میں کتے کاٹے کے کیسز کی تعداد 22 ہزار 822 ہے، حیدرآباد ڈویڑن میں لگ بھگ 21 ہزار، شہید بینظیر آباد ڈویڑن میں 12 ہزار سے زیادہ، میر پور خاص ڈویڑن میں چھ ہزار 774 اور کراچی ڈویڑن میں 320 واقعات پیش آئے ہیں،واضح رہے کہ چند سال قبل بلدیاتی اداروں نے آوارہ کتوں کو تلف کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا تو ایک غیر سرکاری تنظیم نے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس تنطیم کا کہنا تھا کہ کتوں کو زہر دیکر مارنے کی بجائے اس کی نس بندی کی جائے،

28 ستمبر کو ریبیز ویکیسین کے موجد فرانسیسی کیمسٹ اور مائکرو بائیوولوجسٹ لوئس پاسچر کی برسی بھی منائی جاتی ہے۔

اس حوالے سے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی قلت ہے،مقامی طور پر یہ ویکسین اتنی بڑی تعداد میں تیار نہیں ہورہی جتنی اس کی ضرورت ہے،

ریبیز کے علاج کے علاوہ اس پر قابو پانے کے لیے بھی اقدامات کرنا ہونگے۔پاکستان کو سالانہ 10 لاکھ اینٹی ریبیز ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے جس کا صرف 7 فیصد ملکی سطح پر تیار کیا جاتا ہے،

ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ سروسز میجر جنرل عامر اکرام نے کہا ہے کہ کتے کے کاٹنے سے لگنے والی بیماری ریبیز انسانی زندگی کیلئے بڑا خطرہ ہوتی ہے،جو کام بہت پہلے ہونا چاہیے تھا اس پر ہم اب توجہ دے رہے ہیں،