سکھرکے بڑھتے مسائل کیخلاف 22 ستمبر کو احتجاج ہوگا،جاوید میمن

41

سکھر(نمائندہ جسارت)سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس کے چیئرمین حاجی محمد جاوید میمن نے کہا ہے کہ سکھر شہر کو دو خاندانوں نے یرغمال بنا رکھا ہے، شہر بنیادی مسائل کے حوالے سے مکمل تباہ ہوچکا ہے۔ روز روز کے تجربات سے عوام بیزار ہوچکی ہے۔شہر میں آئے دن ڈرینج کا نظام تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور روڈوں اور گلیوں میں گندے پانی کا راج ہوتا ہے شہر کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں گندگی کے ڈھیر عوام کا استقبال نہ کرتے ہوں۔ میئر سکھر سب اچھا کا نعرہ لگا کر اپنے دل کو خوش کرتے ہیں۔ ان کے چہیتے واہ واہ کے پل باندھ دیتے ہیں۔ میئر سکھر میں نظر آئیں تو انہیں سکھر کے بنیادی مسائل کا پتہ چلے، آئے دن وہ دوروں پر رہتے ہیں ، ڈپٹی میئر جس کی اپنی یوسی میں نہیں چلتی وہ اپنے شہر کو کس انداز میں چلائے گا۔ سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس عوام کے مسائل کے حل کیلیے ہمیشہ آواز بلند کرتا ہے اور بلند کرتا رہے گا، سکھر کے بڑھتے ہوئے مسائل کے خلاف ایس ڈی اے کی جانب سے 22 ستمبر کو احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں پرہجوم ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مولانا عبیداللہ بھٹو،مشرف محمود قادری، غلام مصطفی پھلپوٹو، رضوان قادری، شاہ محمد انڈھڑ، اشفاق بھٹی، ظہیر حسین بھٹی، ڈاکٹر سعید اعوان،عبدالباری انصاری، محمد منیر میمن، آغا محمد اکرم درانی، طارق میرانی، سید ماجد شاہ، محمد اکرم، حسن شہید، شوکت آرائیں ، آغا طاہر مغل،امداد جھنڈیراورراشد صدیقی و دیگر بھی موجود تھے۔ حاجی محمد جاوید میمن و دیگر رہنمائوں کا مزیدکہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سکھر کے بنیادی مسائل کے حوالے سے بھرپور عوام کی طاقت سے احتجاجی تحریک چلائی جائے۔ مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے کہ سکھر کا میڈیا ایک آزاد میڈیا ہے انہوں نے ہمیشہ سکھر کے بنیادی مسائل کو اچھے انداز میں اجاگر کیا ہے، لیکن افسوس کہ سکھر کے منتخب نمائندے عوام سے ووٹ اس وعدے پر لیتے ہیں کہ ہم سکھر کو پیرس بنادینگے لیکن پیرس تو دور کی بات سکھر پرانی حالت پر بھی نظر نہیں آرہا اور پورا شہر کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ 6یوسیوں کا نظام کروڑوں روپے کے عیوض نجی کمپنی کو دیکر کرپشن کا نیا باب کھول دیا گیا ہے عوام اپنے یوسی کے منتخب نمائندوںکے پاس جاتے ہیں تو ان کے ان کے منتخب نمائندوں کا یہ ہی جواب ہوتا ہے کہ اب صفائی کا نظام نجی کمپنی کے حوالے ہے ہمارے بس میں نہیں ہے۔ عوام جائے تو جائے کہاں سکھر شہر کا صفائی، صحت، تعلیم کا نظام مکمل طور پر تباہی کے دھانے پر ہے۔ 22 ستمبر کو ایک احتجاجی تحریک کے سلسلے میں ایک احتجاجی ریلی نیکالی جائے گی۔ جس میں سکھر کی سیاسی، سماجی، مذہبی، قومپرست جماعتوں اور تاجر تنظیموں سے بھرپور رابطہ کیا جائے گا۔ تاکہ شہر کے بنیادی مسائل کے حل کیلیے عوامی طاقت کا بہترین مظاہرہ کیا جاسکے۔