جھڈو منشیات فروشوں کا تعلیمی اداروں کا رخ طلبہ بطور آلہ کار استعمال ہونے لگے

31

جھڈو (نمائندہ جسارت) منشیات فروشوں نے تعلیمی اداروں کو بھی نہ بخشا،منشیات کی فروخت کے لیے طالب علموں کو بطور آلہ کار استعمال کیاجانے لگامنشیات کے دھندے پر استعمال ہونے والے طالب علم کے ہوش ربا انکشافات اور نشاندہی پر منشیات فروش گرفتار مقدمہ درج۔تفصیلات کے مطابق جھڈو میں منشیات فروشوں نے ملنے والی کھلی چھوٹ کافائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے نیٹ ورک کو تعلیمی اداروں تک پھیلادیاہے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول جھڈو کے ہیڈ ماسٹر کی نشاندہی پر جھڈو پولیس نے کم عمر طالب علم اور منشیات فروش لچھمن گورائیہ کو حراست میں لے لیا اور منشیات فروش لچھمن کو پرمقدمہ قائم کردیا جبکہ طالب علم کو وارننگ دے کر اور آئندہ منشیات فروخت نہ کرنے کی یقین دہانی پر چھوڑ دیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ اسکول ٹیچر کو طالب علم کی غیر حاضری اور اسکول بیگ کلاس روم میں چھوڑ کر فرار ہونے اور مشکوک حرکات پر شبہ ہوا تو طالب علم کے تعاقب کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ طالب علم گٹکا مین پوری نشہ آور چھالیہ اسکول کے اندر اور اسکول کے باہر طلبہ کو فروخت میں ملوث ہے ۔طالب علم کا کہنا ہے کہ منشیات فروش لچھمن اسے روزانہ اس کام کے عوض سو روپے دیتا تھا۔دریں اثنا جھڈو کے سیاسی سماجی حلقوں نے شہر بھر اور بالخصوص تعلیمی اداروں میں منشیات کی کھلے عام فروخت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منشیات کی خریدوفروخت کو بند کرنے کا مطالبہ کیاہے۔