اسرائیل ،ایک سال میں دوسری بار انتخابات

126

تل ابیب: اسرائیل میں رواں سال دوسری مرتبہ انتخابات ہونے جارہے ہیں جس میں  60 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

وزارت عظمیٰ کی دوڑمیں پانچ بار  وزیراعظم رہنے والے بنیامین نیتن یاہو اور سابق آرمی چیف بینی گانتز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔پولنگ کے لیے 10 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جبکہ انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے سینٹرل الیکشن کمیٹی نے 3ہزار نگرانوں کو تعینات کیا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی جھلک اسرائیلی انتخابی مہم کے دوران بھی نظر آئی۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ کی تصاویر بھی جگہ جگہ آویزاں کی ہیں۔

 اس سے قبل9 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کی قدامت پسند لیکوڈ پارٹی اور بینی گانتز کی بلیو اینڈ وائٹ پارٹی 35، 35 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی تھیں۔

انتخابات میں نیتن یاہو کا مستقبل داؤ پر ہے، جو کرپشن کے تین بڑے اسکینڈلز کا سامنا کرکررہے ہیں ۔

آج ہونے والے اسرائیلی انتخابات اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دہائیوں سے جاری تنازع کے حل کےلیے ‘منصوبے’ کا اعلان اسرائیلی انتخابات کے بعد کریں گے۔منصوبہ 50 ارب ڈالرز کا اقتصادی پروگرام ہے جو مشرق وسطیٰ میں شامل ممالک فلسطین، اردن، مصر اور لبنان کیلئے ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں نیتن یاہو انتخابات میں کامیابی کی صورت میں مغربی کنارے سے منسلک وادی اردن کو اسرائیل میں شامل کرنے کے اعلان کرچکے ہیں۔گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد وہ اسرائیل کی حدود کو وادی اردن اور شمالی بحیرۂ مردار تک بڑھا دیں گے۔

جس منصوبے کو نیتن یاہو کی جانب سے ‘اسرائیلی مشرقی سرحد’ کا نام دیا گیا ہے۔