پہلے روایتی جنگ تو لڑیں…

306

وزیراعظم عمران نیازی نے بھارت کے خلاف ایک اور بیان کی توپ چلاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سے روایتی جنگ کا اختتام ایٹمی جنگ پر ہوگا۔ نتائج پوری دنیا بھگتے گی۔ ہم نے جنگ سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ میں معاملہ اٹھایا ہے۔ کیا عمران نیازی یہ سمجھتے ہیں کہ اس بیان سے مودی خوفزدہ ہو جائے گا یا اس کی افواج کشمیر سے نکل جائیں گی۔ اس کی فوج تو آئی ایس پی آر کے ترانے کو سن کر بھی نکلی۔ شیخ رشید کی ایک کلو، دو کلو، آدھا کلو اور ایک پائو کے بموں کے لطیفوں سے بھی مودی کو خوف نہیں آتا۔ اگر ہمارے حکمران کچھ کرنا چاہتے ہیں تو طالبان سے سیکھیں، 18 برس مزاحمت کے بعد جب مذاکرات ہو رہے ہیں تو امریکی صدر الٹے سیدھے بیانات دے رہے ہیں اور طالبان نے دھمکی نہیں دی بلکہ عمل بھی کر دکھایا۔ اس کے نمائندے ملا شیر عباس نے ماسکو میں روسی نمائندوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ اگر امریکا ہمارے لوگوں کو مار سکتا ہے تو ہمیں بھی انہیں مارنے کا حق ہے اور طالبان نے محض دھمکی نہیں دی امریکیوںکو مار بھی دیا۔ ہمارے وزیراعظم عمران نیازی یہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر بھارت کے ساتھ روایتی جنگ ہوئی تو اس کا اختتام ایٹمی جنگ پر ہوگا۔ کہنے، بولنے اور ڈرانے کے لیے یہ جملہ اچھا ہے لیکن جناب نیازی صاحب روایتی جنگ تو لڑیں۔ صرف افواج کو دوسرے کی سرحدوں میں داخل کرنا اور ان پر فضائی یا بحری حملے کرنا ہی روایتی جنگ نہیں۔ بھارت 72 برس سے پاکستان کے ساتھ جو روایتی جنگ لڑ رہا ہے کم از کم اس جیسی جنگ ہی لڑ لی جائے۔ بھارت پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیاں کرتا ہے۔ سویلین آبادی پر بمباری کرتا ہے۔ ہر دوسرے روز کنٹرول لائن پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ پاکستان صرف بھارتی سفیر یا ناظم الامور کو طلب کرتا ہے، احتجاج کرتا ہے اور سخت نتائج کی تنبیہ کرتا ہے۔ یہ بھارت کی روایتی جنگ ہے پاکستان اس روایتی جنگ میں بھارت سے کسی قسم کا کوئی مقابلہ نہیں کر رہا۔ کم از کم طالبان ہی سے سیکھ لیں جو کہتے بھی ہیں اور کر بھی ڈالتے ہیں۔ اگر بھارت پاکستانی شہریوں کو ہلاک کرسکتا ہے تو پاکستان کو بھی ایسا کرنے کا حق ہے۔ وہاں سے لاشوں کا تحفہ اور یہاں سے صرف احتجاجی مراسلے۔ اسی رویے نے بھارت کی ہمت افزائی کی اور اس نے کشمیر میں 370 اور 35 اے ختم کر ڈالے۔ یہاں سے صرف زبانی دعوے… وزیراعظم عمران نیازی بھارت کو ایٹمی جنگ کی دھمکی تو دے رہے ہیں لیکن روایتی جنگ کے لیے بھی تیار نہیں۔ جب تک پاکستان یہ روایتی جنگ لڑ رہا تھا اور پاکستان کی جانب سے حریت پسندوں کی مدد کی جارہی تھی۔ انہین ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی جاتی تھیں تو بھارت کی 8 لاکھ فوج بدحواس رہتی تھی اس کے جوان نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہو رہے تھے۔ اور دو ایک مواقع ایسے آئے تھے جب پاکستان اپنی شرائط پر مسئلہ کشمیر حل کرا سکتا تھا۔ ایک موقع تو جنرل پرویز نے ضائع کیا بلکہ الٹا پاکستان کو امریکی گود میں ڈال دیا تھا۔ اگر وہ افغانستان میں امریکی افواج سے تعاون کے بدلے کشمیر میں استصواب کرا لیتے اور کشمیر کا پاکستان سے الحاق یقینی بنا لیتے تو آج پاکستانی قوم شرمندہ نہ ہوتی۔ افغان جنگ کا نتیجہ تو یہی نکلنا تھا جو آج نکلا ہے اصل بات تو یہ ہے کہ دنیا میں پاکستان سر اٹھا کر چلے گا یا ہر پاکستانی سر جھکا کر چلے گا۔ 5 اگست کے بعد سے مودی کے روایتی حملے نے بھارتی فوج اور بھارتی قوم کو سر اٹھا کر چلنے کا حوصلہ دے دیا ہے اور پاکستان میں سلیکٹڈ حکمران اپوزیشن کے خلاف سلیکٹڈ احتساب میں لگے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے بھی اچھا پیغام نہیں دیا جارہا، صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران اپوزیشن کی ہلڑ بازی پارلیمنٹ اور پاکستان کے وقار کے منافی ہے۔ کشمیریوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ کشمیر کے معاملے پر صدر پاکستان کے خطاب کی بھی کوئی وقعت نہیں۔ دراصل یہ سب ایک ہی قبیل کے لوگ ہیں ان میں روایتی اور غیر روایتی کوئی جنگ لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔ وزیراعظم جنگ کے لیے ہدایت تو دیں۔ کنٹرول لائن عبور کرنے کے لیے کال کا انتظار کرنے کی باتوں یا ایٹمی جنگ کی دھمکیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔