قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ

196

جن لوگوں نے کفر کیا اور جو (آج) اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں اور اْس مسجدِ حرام کی زیارت میں مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے، جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں (اْن کی روش یقینا سزا کی مستحق ہے) اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ ’’میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔ (سورۃ الحج:25تا26)

سیدنا ابوہریرہ ؓ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہوجائے تو اس کے پیچھے (جنازے میں) جاؤ۔
(مسلم)