مقبوضہ کشمیر ، معمولات زندگی بدستور مفلوج ، نئی دہلی کے طلبہ کشمیریوں کے حق میں نکل آئے

56

 

سری نگر/نئی دہلی(خبر ایجنسیاں)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیوں کو 39روز ہوگئے، بھارتی فوج گھروں سے باہر نکلنے والے نہتے کشمیریوں پر گولیاں برستے ہیں،وادی میں کمیونی کیشن بلیک آوٹ، دکانیں، کاروبار اور تعلیمی ادارے مکمل بند ہیں، گھروں میں قید کشمیریوں کھانے پینے کی اشیا کو ترس گئے۔ مقبوضہ کشمیر میں جگہ جگہ فوج تعینات ہے، بھارتی فوج ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کرچکی ہے۔گزشتہ روز سوپور میں بھارتی فوج نے درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا، گھر سے باہر نکلنے والے کشمیری کی کار پر
فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔دوسری جانب بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیکڑوں طلبہ نے بھارتی حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کی منسوخی اور کشمیر کے مسلسل فوجی محاصرے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق طلبہ نے نئی دہلی کے جنتر منتر میں کشمیر کے موجودہ ابتر حالات کی عکاسی کرنے والا ایک ڈھانچہ تعمیر کیا جس کی شکل جیل خانے جیسی تھی اور وہاں احتجاج کیا۔ انہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’جمہوریت کی موت‘‘ اور’’ ہم کشمیریوںکے ساتھ ہیں‘‘جیسے نعرے درج تھے۔ احتجاجی طلبہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے زاید عرصے سے جاری محاصرے، کرفیو ، پابندیوں اور ذرائع ابلاغ کی معطلی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر آرہے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ انہوںنے کہا کہ مسلسل محاصرے اور پابندیوں کے باعث کشمیر میں اودیات اور دیگر ضروریات زندگی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ادھرمقبوضہ کشمیرمیں ٹاڈا عدالت کے پریزائیڈنگ افسر سبھاش سی گپتا نے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طورپر نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کے پروڈکشن آڈر جاری کیے ہیں۔ 30برس قبل درج کیے گئے مقدمے کی سماعت کے لیے یکم اکتوبر کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآںجنوبی بھارت کی علاقائی جماعت ’’ایم ڈی ایم کے‘‘ کے سربراہ اور بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن وائیکونے مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی رہائی کے لیے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔
مقبوضہ کشمیر