وفاق کی کراچی کے مسائل پر کمیٹی:سندھ حکومت نمائندگی سے محروم

36

کراچی (نمائندہ جسارت) وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی کے مسائل کے حل سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلیے بنائی گئی کمیٹی میں سندھ حکومت کو نمائندگی سے محروم کردیا گیا‘ سندھ حکومت کے مفاہمتی رویے کے باوجود وزیراعظم کی ہدایت پرکراچی کے لیے قائم کی گئی کمیٹی میں کسی صوبائی وزیرکوشامل نہیں کیا گیا ہے‘ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں یوم عاشورکے بعدکلین کراچی مہم دوبارہ شروع کرنے پراتفاق کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے رکن وفاقی وزیرعلی زیدی کی جانب سے سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے اقدامات کی تعریف اور مشترکہ جدوجہد کے عزم کے باوجود انہیں نمائندگی نہیں دی گئی ہے اور علی زیدی کے علاوہ وفاق اور سندھ حکومت کے مابین فاصلے کم کرنے کے لیے سرگرم گورنر سندھ بھی خاموش ہیں۔ علاوہ ازیں کراچی کے مسائل کے حل کے
لیے قائم کردہ کمیٹی کے ارکان نے وفاقی وزیر برائے قانون ڈاکٹر فروغ نسیم سے کراچی میں ملاقات کی جس میں ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی، وسیم اختر، امین الحق، فیصل واوڈا، حلیم عادل شیخ، خرم شیرزمان، آفتاب صدیقی، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوش شمیم نقوی اور ایم این اے آفتاب صدیقی و دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں کراچی کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے متعلق مشاورت کی گئی اور ابتدائی طور پرکلین کراچی مہم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یوم عاشورکے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر کراچی میں کلین کراچی مہم دوبارہ شروع کی جائے گی جس کی نگرانی ایف ڈبلیو او دیگر ادارے کریں گے۔ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے سربراہ، وفاقی وزیرقانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی کمیٹی کراچی میں انتظامی مسائل کے حل کے لیے سفارشات مرتب کرے گی‘ گزشتہ 11سال میں کراچی کے مسائل پر توجہ نہیں دی گئی‘ کراچی میں کچرے اور دیگر مسائل بے تحاشا ہیں‘ کراچی کو بچانا ہے تو جلد مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہوں گے‘ کچرا اٹھانے اور ڈمپنگ پوائنٹ تک پہنچانے کیلیے مستقل حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے معاملات پر غورکیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر 12 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے‘ کمیٹی کا نام کراچی اسٹرٹیجک کمیٹی ہوگا جس میں 6 اراکین ایم کیو ایم اور 6 پی ٹی آئی کے ہوں گے۔
کراچی کمیٹی