ٹرمپ مذاکرات سے بھاگ نگلے

146

مسلسل یہ اطلاعات آرہی تھیں کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کامیاب رہے ہیں اور بس معاہدے پر دستخط ہونے ہی والے ہیں۔لیکن پاکستان کے وقت کے مطابق 7ستمبر کو رات گئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان سے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ یہی نہیں بلکہ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈمیں طالبان سے وہ ملاقات بھی منسوخ کردی جو انہوں نے سب سے خفیہ رکھی تھی۔ ان کے قریب ترین ساتھیوں کو بھی اس ملاقات کا علم نہیں تھا۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے طالبان سے خفیہ ملاقات کا ذکر کرکے بم پھوڑ دیا۔ کیا اس ملاقات سے ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کار زلمے خلیل زاد بھی بے خبر تھے، کیا پنٹاگون کے علم میں تھا؟اس مجوزہ ملاقات کو خفیہ کہا جارہا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ بات ٹرمپ کے دو،ایک قابل اعتماد افراد تک محدود تھی اور وہ شاید’’سرپرائز ‘‘دینا چاہتے تھے لیکن سرپرائز تو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خفیہ طور پر طالبان قیادت سے ملنے جارہے تھے۔ ٹرمپ جب سے برسراقتدار آئے ہیں ایک ایک کرکے اپنے قریبی ساتھیوں کو الگ کرتے جارہے ہیں۔ وہ ایک متلون خراج شخص ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ صرف چند دن بعد طالبان سے مذاکرات کرنے کا عندیہ دیدیں۔ مذاکرات منسوخ یا معطل کرنے کا جواز انہوں نے یہ پیش کیاہے کہ گزشتہ دنوں کابل پر طالبان کے حملے میں ایک امریکی فوجی بھی مارا گیا تھا۔ امریکی افغانستان پر قبضے کی کوشش میں ملوث ہیں اور افغانوں کے اصل حریف ہیں چنانچہ ان کا مارا جانا تعجب کا سبب نہیں ہونا چاہیے اور یہ پہلا امریکی فوجی نہیں تھا جو افغانستان میں مارا گیا ۔ اپنے فوجیوں کی جان بچانے ہی کے لیے تو امریکا نے مذاکرات کا ڈول ڈالا ہے۔ لیکن ایک امریکی فوجی کے مارے جانے پر برہمی کااظہار کرنے والے یہ حساب تو لگائیں کہ قابض امریکی ویورپی فوج نے اب تک کتنے افغانوں کو شہید کیا ہے جن کا کوئی جرم نہیں تھا۔ تمام بین الاقوامی قوانین کسی بھی ملک یا بستی پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف مسلح جدوجہد کا حق دیتے ہیں ۔یہ حق افغانوں کو بھی حاصل ہے، فلسطینیوں کو بھی اور مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کو بھی جن کی سرزمین پر بھارت نے 9لاکھ فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا ہے۔ نیو یارک کے تجارتی مرکز کے دومیناروں کو طیارے ٹکراکر تباہ کرنے کے اس عمل سے کسی افغان کو کوئی تعلق نہیں تھا۔ پھر بھی امریکا اپنے 40صلیبی حواریوں کو لے کر افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ افغان طالبان غیر ملکی قابضین کو قتل کرنے، انہیں اپنے ملک سے نکالنے کے لیے ہر طریقہ استعمال کرنے میں حق بجانب ہیں لیکن امریکا کے پاس افغانستان پر قبضے کا کوئی اخلاقی جواز ہی نہیں ۔ٹرمپ نے سوال کیا ہے کہ طالبان مزید کتنی دہائیوں تک لڑنا چاہتے ہیں؟یہ سوال تو ٹرمپ کو خود اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ امریکا اور کتنانقصان برداشت کرے گا۔ افغان طالبان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ وہ بڑے بڑے محلوں میں پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں جس سے محرومی کا خدشہ ہو۔ ان کے پاس ایک جان ہے جس کو جہاد کی راہ میں قربان کرنے میں انہیں کوئی عار نہیں۔ ایک مومن مسلمان بھی جانتا ہے کہ شہادت سے بڑا انعام اس کے لیے کوئی اور نہیں۔ طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ 18برس پر مشتمل ہماری لڑائی سے امریکیوں پر ثابت ہوچکا ہوگا کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا تک امریکیوں کو سکون نہیں ملے گا، ہم جہاد جاری رکھیں گے، وہ پھر مذاکرات کے لیے آئیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیپونے پیر کے روز مذاکرات کی بحالی کا عندیہ دیا ہے۔امریکا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔عجیب بات ہے کہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ مذاکرات کرو، جنگ مسئلے کا حل نہیں ۔ مگر خود ٹرمپ افغانوں سے مذاکرات سے بھاگ نکلے۔ امریکا کے بھاگ نکلنے پر سب سے زیادہ خوشی افغان صدر اشرف غنی کو ہوئی ہے اور بھارت نے بھی اطمینان کا سانس لیا ہوگا۔ اشرف غنی کا مسئلہ یہ ہے کہ مذاکرات کامیاب ہونے سے ان کا اقتدار ختم ہوجائے گا جو اب بھی محدود ہے اور کابل تک محفوظ نہیں۔ چنانچہ اشرف غنی کا کہنا ہے کہ امریکا ہمارے ساتھ مل کر قیام امن کے لیے کام کرے۔ بھارت کو یہ تشویش ہے کہ افغانستان سے امریکا کے نکل جانے کے بعد اس کی سرمایہ کاری اور اثرورسوخ خطرے میں پڑجائیں گے۔ اس صورتحال کا پاکستان پر کیا اثر پڑتا ہے، یہ ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ پاکستان کا کردار ایک سہولت کار کا رہاہے تاہم افغان یہ سمجھتے رہے ہیں کہ وہ دشمن کا دوست ہے۔