سید ہ زینب ؓ کی بے باکانہ گفتگو

75

 

ابوالکلام آزاد

سیدہ فاطمہ بنت علیؓ سے مروی ہے کہ ’’جب ہم یزید کے سامنے بٹھائے گئے تو اس نے ہم پرترس ظاہر کیا۔ ہمیں کچھ دینے کا حکم دیا۔ بڑی مہربانی سے پیش آیا۔ اسی اثنا میں ایک سرخ رنگ کا شامی لڑکا کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ’’امیرالمومنین! یہ لڑکی مجھے عنایت کر دیجیے‘‘۔ اور میری طرف اشارہ کیا۔ اس وقت میں کمسن اور خوبصورت تھی۔ میں خوف سے کانپنے لگی اور اپنی بہن زینبؓ کی چادر پکڑلی۔ وہ مجھ سے بڑی تھیں۔ اور زیادہ سمجھدار تھیں اور جانتی تھیں کہ یہ بات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے پکار کر کہا: ’’تو کمینہ ہے نہ تجھے اس کا اختیار ہے نہ اسے (یزید کو) اس کا حق ہے‘‘۔
اس جرأت پر یزید کو غصہ آگیا۔ کہنے لگا: ’’تو جھوٹ بکتی ہے۔ واللہ مجھے یہ حق حاصل ہے، اگر چاہوں تو ابھی کر سکتا ہوں‘‘۔
سیدہ زینبؓ نے کہا: ’’ہرگز نہیں! خدا نے تمہیں یہ حق ہرگز نہیں دیا۔ یہ بات دوسری ہے کہ تم ہماری ملت سے نکل جاؤ اور ہمارا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلو‘‘۔
یزید اور بھی خفا ہوا، کہنے لگا: ’’دین سے تیرا باپ اور تیرا بھائی نکل چکا ہے‘‘۔
زینبؓ نے بلاتامل جواب دیا۔ اللہ کے دین سے، میرے باپ کے دین سے، میرے بھائی کے دین سے، میرے نانا کے دین سے، تو نے، تیرے باپ نے، تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے‘‘۔
یزید چلایا: ’’اے دشمن خدا! تو جھوٹی ہے‘‘۔
سیدہ زینبؓ بولیں: ’’تو زبردستی حاکم بن بیٹھا ہے، ظلم سے گالیاں دیتا ہے، اپنی قوت سے مخلوق کو دباتا ہے‘‘۔
سیدہ فاطمہ بنت علیؓ کہتی ہیں: یہ گفتگو سن کر شاید یزید شرمندہ ہوگیا کیونکہ پھر کچھ نہ بولا، مگر وہ شامی لڑکا پھر کھڑا ہوا اور وہی بات کی۔ اس پر یزید نے اسے غضب ناک آواز میں ڈانٹ پلائی: ’’دور ہو کم بخت! خدا تجھے موت کا تحفہ بخشے‘‘۔
یزید کا مشورہ
دیر تک خاموشی رہی۔ پھر یزید شامی رؤسا وامرا کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: ان لوگوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو؟ بعضوں نے سخت کلامی کے ساتھ بدسلوکی کا مشورہ دیا، مگر نعمان بن بشیر نے کہا: ’’ان کے ساتھ وہی سلوک کیجیے جو رسول اللہؐ انہیں اس حال میں دیکھ کر کرتے‘‘۔
سیدہ فاطمہ بنت حسینؓ نے یہ سن کر کہا: اے یزید! یہ رسول اللہؐ کی لڑکیاں ہیں۔ اس نسبت کے ذکرسے یزید کی طبیعت بھی متاثر ہوگئی، وہ اور درباری اپنے آنسو نہ روک سکے۔ بالآخر یزید نے حکم دیا کہ ان کے قیام کے لیے علیحدہ انتظام کردیا جائے‘‘۔
یزید کی بیوی کا غم
اس اثنا میں واقعے کی خبر یزید کے گھر میں عورتوں کو بھی معلوم ہوگئی۔ ہندہ بنت عبداللہ، یزید کی بیوی نے منہ پر نقاب ڈالا اور باہر آ کر یزید سے کہا: ’’امیرالمومنین کیا حسین بن فاطمہؓ بنت رسول اللہؐ کا سر آیا ہے؟‘‘ یزید نے کہا: ’’ہاں! تم خوب روؤ، بین کرو۔ رسول اللہؐ کے نواسے اور قریش کے اصیل پر ماتم کرو۔ ابن زیاد نے بہت جلدی کی، قتل کر ڈالا، اللہ اسے بھی قتل کر دے‘‘۔