بھارت پوری فوج لگادے،دستبردار نہیں ہونگے،علی گیلانی

144

سری نگر/نیویارک(خبرایجنسیاں) کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت اپنی پوری فوج کشمیر میں تعینات کردے تب بھی ہم اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت سربراہ نے اپنے کھلے خط میں بہادرکشمیری عوام کو حوصلے بلند رکھنے، جدوجہد آزادی کو تیز کرنے اوربھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ہدایت کی ہے۔علی گیلانی نے کہا کہ قابض بھارتی فوج مارنے کے لیے تیار ہے تو کشمیری بھی احتجاج کرنے اور مرنے کے لیے تیار ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے مسلم امہ اورخصوصی طور پر پاکستانی عوام اورحکمرانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری کشمیریوں کی مدد کے لیے آئیں۔بزرگ رہنما کے بقول وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں اور ایسا نہ کیا گیا تو تاریخ اور آنے والی نسلیں آپ کو معاف نہیں کریں گی۔علی گیلانی نے کہا کہ کشمیر سے باہر مقیم کشمیری دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور مسلمانوں کی نسل کشی آگاہ سے کریں، یہ آپ لوگوں کی اولین ذمے داری بنتی ہے کہ اپنے کشمیری بھائی بہنوں کے لیے صدائے احتجاج بلند کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ہر ایک کشمیری بھارت کی ننگی جارحیت کیخلاف گھر سے باہر نکل آئے اور جواں مردی اور ہمت کے ساتھ سخت مزاحمت کا مظاہرہ کرے کیوں کہ آزادی کے حصول کے لیے مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے، آزادی کی جنگ مکمل یقین اور استقامت سے لڑی جائے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ اتحاد، صداقت، ہمت، صبر، نظم و ضبط اور استقامت ہمارے وہ ہتھیار ہیں جن سے دشمن کے جدید اور خطرناک جنگی ہتھیاروں کو مات دی جاسکتی ہے، وادی بھر میں مظاہرے کیے جائیں اور کسی نہ کسی طرح دنیا کو وادی کی اصل صورت حال سے آگاہ کیا جائے۔سید علی گیلانی کے مطابق اس وقت پوری وادی کو جیل بنادیا گیا ہے، تمام حریت اور سیاسی قیادت اسیر یا نظر بند ہے، ذرائع مواصلات معطل ہیں تاکہ دنیا سے بھارتی مظالم کو چھپایا جا سکے۔ اشیاء خور و نوش کی قلت کے باعث فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے،بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔علاوہ ازیں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے21 ویں روز بھی وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے جس کے باعث لاکھوں لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور معمولات زندگی معطل ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ٹیلیفون ، موبائل اور انٹرنیٹ سروسزسمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع اور ٹیلیویڑن کی نشریات تاحال بند ہیں۔ قابض انتظامیہ گزشتہ 21 روز سے صحافیوں سمیت کسی کو علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دے رہی اور نہ مقامی صحافیوں کو کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے قابض حکمران مسلسل یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ علاقے میں حالات معمول پر آرہے ہیں جبکہ بھارتی ذرائع ابلاغ بھی کشمیر دشمن رپورٹنگ کرکے اپنی حکومت کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ نے بھارت کو قابل شرم ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔جنرل سیکرٹری انٹونیو گوٹیریز کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق فہرست میں ایسے ممالک کو رکھا کیا گیا ہے جہاں انسانی حقوق کی خاطر کام کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔اقوام متحدہ کی فہرست میں مجموعی طور پر 38 ممالک شامل ہیں جن میں سے 29 کو پہلی بار درج کیا گیا ہے۔اس فہرست میں جن ممالک کو رکھا گیا ہے وہاں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو قتل، تشدد، بد سلوکی، مجرمانہ سلوک، الزام اور گرفتاریوں کا سامنا ہے۔انٹونیو گوٹیریز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ہم ان بہادر لوگوں کی خدمات کو سراہتے ہیں جنہوں نے مشکلات کے باوجود ہمیں آگاہ رکھا۔سیکرٹری جنرل نے لکھا کہ اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے والوں سزائیں دینا ایک قابل شرم عمل ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔جن ممالک کو قابل شرم قرار دیا گیا ہے وہاں اقوام متحدہ کے نمائندوں پر بیرونی طاقتوں کے آلہ کار ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی آڑ میں کمیونٹی اور سول سوسائٹی کا اقوام متحدہ سے رابطہ ختم کرنا ایک پریشان کن بات ہے۔اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کو جنسی زیادتی اور آن لائن ہراساں کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔اسسٹنٹ سیکرٹری انڈریو گیلمور کے مطابق رپورٹ میں جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے وہ اصل حقائق سے بہت کم ہیں جب کہ ہمیں سیاسی، قانونی اور انتظامی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔یو این کی فہرست میں جن ممالک کو رکھا گیا ہے ان میں بھارت، روس، میانمار، مالدیپ، اسرائیل، ہنگری، فلپائن، تھائی لینڈ، وینزویلا، روانڈا، مصر، کانگو، کیوبا، کولمبیا اور دیگر شامل ہیں۔