عہد رسالت کا مثالی گھرانہ

77

یمن کے قیام کے دوران سیدنا بلالؓ کے دل میں نکاح کا خیال پیدا ہوا۔ چنانچہ وہ ایک دوشیزہ ہند کے والدین کے پاس گئے اور ان کی بیٹی سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا۔ لڑکی والوں نے پوچھا ’’تم کون ہو اور کہاں کے رہنے والے ہو؟‘‘
انہوں نے کہا ’’میں بلال بن رباح ہوں اور رسول اکرمؐ کا ایک صحابی ہوں۔ میں ایک غلام تھا، میرے رب نے مجھے آزاد کر دیا، میں سیدھے راستے سے بھٹکا ہوا تھا، میرے رب نے مجھے ہدایت دی۔ میں اس وقت آپ سے آپ کی بیٹی کا ہاتھ مانگ رہا ہوں۔ اگر آپ ہاں کر دیں تو خدا کا شکر اور اگر انکار کریں گے تو خدا بہت بڑا ہے‘‘۔
ہند کے والدین نے اپنے خاندان کے چند لوگوں کو مدینہ طیبہ بھیجا، جنہوں نے رسول اقدسؐ سے اس رشتے کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ آپؐ نے جواب میں فرمایا ’’تمہیں یہ حق کس نے دیا ہے کہ تم ایک جنتی شخص کو اس کی حیثیت سے کم خیال کرو؟‘‘
رسول اقدسؐ کی اس بات سے ان لوگوں کو تسلی ہو گئی اور کچھ ہی عرصے کے بعد سیدنا بلالؓ اور ہند کی شادی ہوگئی اور وہ نہایت خوشگوار زندگی گزارنے لگے۔
ایک مرتبہ بلالؓ اور آپ کی اہلیہ سیدہ ہندؓ کے درمیان کسی بات پر کچھ تکرار ہو گئی اور گھروں میں ایسی بات ہو ہی جاتی ہے۔ سیدنا بلالؓ نے اپنے نکتہ نظر کو واضح کرنے کے لیے سرکار دو عالمؐ کا حوالہ دیا۔ ہندؓ کے منہ سے یہ نکل گیا کہ آپؐ نے کبھی ایسی بات نہ کہی ہوگی۔ سیدنا بلالؓ یہ الفاظ برداشت نہ کر سکے۔ اس بات سے انہیں سخت رنج ہوا۔ جب وہ مسجد گئے تو اس رنجیدگی کے اثرات ان کے چہرے پر محسوس ہو رہے تھے۔ رسول اقدسؐ نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ بلالؓ نے واقعے کی تمام تفصیلات بیان کر دیں۔ آپؐ ان کے گھر تشریف لے گئے۔ اس وقت بلالؓ گھر پر نہ تھے۔ ہندؓ نے آپؐ کا نہایت خوش اخلاقی سے استقبال کیا۔ آپؐ نے ہندؓ سے فرمایا:
’’بلال تمہیں میرے حوالے سے جو بھی کہتا ہے وہ صحیح اور درست ہوتا ہے، بلال کبھی کذب بیانی سے کام نہیں لیتا، اس کے ساتھ ہمیشہ محبت سے پیش آؤ، اس کو کبھی ناراض نہ کرو، اگر تم بلال کو ناراض کرو گی تو خدا تم سے راضی نہ ہوگا۔‘‘
ہند نے رسول اقدسؐ کی اس نصیحت کو پلے باندھ لیا۔ چنانچہ سیدنا بلالؓ کے گھر لوٹنے پر انہوں نے بلالؓ سے معذرت کر لی اور ایک دفعہ پھر ان کے گھر کا ماحول خوشگوار اور پرسکون ہوگیا۔