تفہیم الاحکام

423

مفتی مصباح االہ صابر

سوال: ذبح کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
جواب: ذبح شرعی وہی ہے جو آپؐ سے ثابت ہے۔ اس سلسلے میں انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے سیاہی وسفیدی مائل رنگ کے دوسینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی کی۔ اپنے دستِ مبارک سے ان کو ذبح کیا اورذبح کرتے وقت ’بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَر‘ پڑھا۔ میں نے دیکھا اس وقت آپؐ اپنا پاؤں ان کے پہلو میں رکھے ہوئے تھے اور زبان سے ’بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَر‘ کہہ رہے تھے۔ (بخاری، مسلم)
فقہا نے اسلامی ذبیحہ کی تین شرائط ذکر کی ہیں: 1۔ ذبح کرنے والا مسلمان ہو۔ 2۔ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا۔ 3۔شرعی طریقے پر، حلقوم (نرخرہ) اور سانس کی نالی اور خون کی رگیں کاٹ دینا۔
سوال: حلال جانور کے ممنوع اعضا کون سے ہیں؟
جواب: حلال جانوروں کے درج ذیل اعضا مکروہ تحریمی ہیں:
1۔بہنے والا خون جو ذبح کے وقت نکلتا ہے (یہ صرف ممنوع نہیں بلکہ حرام ہے) 2۔مادہ جانور کے پیشاب کی جگہ 3۔کپورے 4۔غدود 5۔نر جانور کی پیشاب کی نالی 6۔مثانہ 7۔پتّہ۔
سوال: قربانی کے جانوروں کی عمریں کیا ہونی چاہییں؟
جواب: قربانی کے جانوروں کی عمریں درج ذیل ہیں: اونٹ، اونٹنی: کم از کم پانچ سال۔
گائے، بیل، بھینس، بھینسا: کم از کم دو سال۔
بکرا، بکری، دنبہ، بھیڑ، مینڈھا: کم از کم ایک سال۔
اگر قربانی کے جانور کی عمر مذکورہ بالا عمر سے ایک دن بھی کم ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ (بدائع الصنائع، رد المحتار)
دنبہ، بھیڑ اور مینڈھا اگر سال سے کم ہو اور کم از کم چھ ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن اس قدرصحت مند اور بڑا ہو کہ ایک سال کا معلوم ہوتا ہو اور اس میں اور سال کی عمر والے دنبوں میں فرق نہ ہوسکے تو ان کی قربانی جائز ہے۔ یاد رہے کہ یہ حکم بکری اور بکرے کے لیے نہیں ہے۔ (مجمع الانہر، فتح القدیر)
مذکورہ بالا جانور جب اپنی ان مطلوبہ عمروں کو پہنچ جاتے ہیں تو عموماً ان کے دو دانت نکل آتے ہیں، جو کہ اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ جانور کی مطلوبہ عمر پوری ہوچکی ہے، لیکن اس میں یہ بات یاد رہے کہ اصل اعتبار عمر کا ہے نہ کہ دانتوں کا، اگر کسی جانور کی عمر پوری ہوچکی ہو لیکن اس کے دو دانت ابھی تک نہیں نکلے ہوں تو ایسے جانور کی قربانی بھی جائز ہے۔ اگر کسی جانور کے دانت پورے نہ ہوں لیکن بیوپاری کا کہنا ہو کہ عمر پوری ہوچکی ہے اگرچہ دانت نہیں نکلے ہیں اور جانور کی ظاہری حالت بھی یہی بتلا رہی ہو کہ عمر پوری ہوچکی ہے تو ایسی صورت میں بیوپاری کی بات پر اعتماد کرنا درست ہے، البتہ ایسے امور میں کسی ماہر کی رائے لے لی جائے تاکہ شبہہ نہ رہے۔ (جواہر الفقہ، فتاوی رحیمیہ)
سوال: قربانی کے جانور میں عقیقے کی نیت کرنا کیسا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
جواب: قربانی کے جانور میں عقیقے کی نیت کرنا جائز ہے۔ جیسے قربانی کے بڑے جانور میں بعض افراد قربانی کی نیت سے شریک ہوں اور بعض عقیقے کی نیت سے۔ اسی طرح ایک شخص ایک ہی جانور میں بعض حصے قربانی کے رکھے اور بعض حصے عقیقے کے تو یہ بھی جائز ہے۔ لیکن یہ جائز نہیں کہ ایک ہی حصے میں قربانی کی بھی نیت کی جائے اور عقیقے کی بھی، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ ایک ہی جانور کو مکمل طور پر قربانی کی نیت سے بھی ذبح کیا جائے اور عقیقے کی نیت سے بھی۔
سوال: قربانی کے جانوروں میں شرکت کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: قربانی کے جانوروں میں بڑے جانور جیسے اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل، بھینس یا بھینسے میں ایک سے لے کر سات تک افراد شریک ہوسکتے ہیں، چاہے جفت افراد ہوں یا طاق، لیکن سات سے زیادہ افراد کی شرکت جائز نہیں۔ (بدائع الصنائع، فتاوی عالمگیری)
اور چھوٹے جانور جیسے بکرا، بکری، دنبہ، بھیڑ یا مینڈھے میں سے ہر ایک میں صرف ایک آدمی ہی کی قربانی جائز ہے، اس میں ایک سے زیادہ افراد کی شرکت جائز نہیں۔ (رد المحتار)
قربانی کے جانور میں جتنے بھی افراد شریک ہوں اس میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو جیسے کسی جانور میں سات افراد اس طرح شریک ہوں کہ پانچ افراد کا ایک ایک حصہ ہو، ایک کا ڈیڑھ حصہ ہو اور ایک کا آدھا حصہ ہو، اس صورت میں چونکہ ایک کا حصہ آدھا ہے جو کہ ساتویں حصے سے کم ہے، اس لیے کسی کی بھی قربانی جائز نہیں ہوگی۔ (الدر المختار مع رد المحتار)