سندھ میں پانی کے زیر تعمیر منصوبے جلد مکمل کیے جائیں، جماعت اسلامی

61

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )جماعت اسلامی سندھ نے کراچی تا کشمور عوام کو صاف پانی کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ کے فور سمیت پانی کے جتنے بھی منصوبے زیر تعمیر ہیں مفاد عامہ کی خاطر انہیں فی الفور مکمل کیا جائے،سندھ میں نہری پانی کی بھی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے خاص طور پر ٹیل کے آبادگاروں تک پانی پہنچانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، تاخیری حربے عوام دشمن تصور کیے جائیں گے، یہ بات جماعت اسلامی سندھ کی مجلس شوریٰ میں پانی کے مسئلے پر منظور ہونے والی قرارداد میں
کی گئی جو قبا آڈیٹوریم میں صوبائی امیر محمد حسین محنتی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ انسانی زندگی کی بقا کے لیے صاف وشفاف پانی کی دستیابی ہونا ایک لازمی امر ہے مگر بدقسمتی سے اس وقت کراچی تا کشمور عوام پانی کے لیے چیخ وپکار کررہے ہیں مگر ان کی داد فریاد کوئی سننے والا نہیں ہے، صورتحال یہ ہے کہ کراچی میں پانی کی تقسیم کا کام مافیا کے حوالے کیا گیا ہے جبکہ یہ حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے کہ ہر گھر تک صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنائے مگر ملک کے سب سے بڑے شہر کو ایک مصنوعی بحران سے دوچار کیا گیا ہے ایسی ہی صورتحال صوبے کے دوسرے شہروں کی ہے۔ ضلع جیکب آباد کے صدر مقام شہر اور تحصیل مقام ٹھل میں 50کروڑ خرچ ہوچکے ہیں مگر اس کے باوجود وہاں کے عوام صاف ومیٹھے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ساری رقم کرپشن کی نظر ہوچکی ہے ،سندھ حکومت کی اپنی انتظامی نااہلی،کرپشن ولوٹ مار عوام کے ساتھ ظلم وزیادتی کے مترادف ہے۔ایک طرف سندھ کے شہری علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہوگیا ہے تو دوسری جانب دریائے سندھ میں وافر مقدار میں پانی موجود ہونے کے باوجود سندھ کے کئی علاقے خاص طور پر ٹیل کے پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں اس لیے جماعت اسلامی سندھ کی مجلس شوریٰ کا اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت کراچی تا کشمور سندھ کے عوام کو صاف وشفاف پانی فراہم جبکہ فصلوں کے لیے نہری پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے خاص طور پر ٹیل کے آبادگاروں کو پانی پہنچاکر ان کی پریشانی کو ختم کیا جائے۔
جماعت اسلامی