پلاسٹک ریپنگ لازمی قرار دینے پر ڈی جی سی اے اے کو ہٹانے کا فیصلہ

171

کراچی (اسٹاف رپورٹر) گزشتہ 7 ماہ کے دوران بطور ڈی جی سی اے اے مایوس کن کارکردگی اور خاص طور پر سفری سامان پلاسٹک میں لپیٹنے کی شرط بلاوجہ لازمی قرار دینے کی وجہ سے امکان ہے کہ سیکرٹری ایوی ایشن/ ڈی جی سی اے اے شاہ رخ نصرت کو آئندہ چند روز میں ان کے ڈی جی سی ا ے اے کے قائم مقام عہدے سے ہٹا دیا جائے گا، سفری بیگز کو پلاسٹک میں لپیٹنا لازمی قرار دینے پر میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر ان کے فیصلے پر شدید نکتہ چینی کی جارہی ہے جبکہ وفاقی وزرا شیریں مزاری، زرتاج گل کے علاوہ پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین اور پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل نے بھی مذکورہ فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر رائے دی ہے۔ حیرت اس بات پر کی جارہی ہے کہ پوری دنیا میں کہیں بھی لازمی نہیں کہ مسافر اپنا سامان پلاسٹک میں لپٹوائیں جبکہ پاکستان میں یہ شرط لازمی قرار دینے پر لگتا ہے اس اقدام کے پس پردہ کچھ اور بھی مقاصد ہونگے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذکورہ اقدام وزیر اعظم کے کلین اینڈ گرین پروگرام کے منافی ہے کیونکہ سالانہ 50 لاکھ مسافر اپنے سفری سامان کا پلاسٹک کچرے میں پھینکیں گے اور یہ عمل ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔ اس وقت شاہ رخ نصرت کے پاس 3 اہم نوعیت کے چارج ہیں اور وہ سیکرٹری ایوی ایشن کے ساتھ ساتھ قائم مقام ڈی جی سی اے اے اور رکن پی آئی اے بورڈ بھی ہیں جس کے باعث وہ اپنی کوئی بھی ذمے داری ٹھیک طرح سے پوری نہیں کرپارہے ہیں اور مذکورہ غلط فیصلہ بھی کام کے اضافی دبائو کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ حال ہی میں شاہ رخ نصرت نے وزیر اعظم کے حکم پر 2 ماہ کے عرصے میں نئی ایوی ایشن پالیسی تو جلدی میں بنادی مگر جلد بازی میں بنائی گئی پالیسی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔ نئی ایوی ایشن پالیسی کے تحت مختلف قسم کے چارجز تو ائر آپریشنز پر کم کردیے گئے ہیں تاہم ان کے ثمرات کا دور دور تک کوئی پتا نہیں۔ برٹش ائرویز کی واپسی ایک سال قبل ن لیگ کے دور کے آخری دنوں میں طے ہوگئی تھی اور موجودہ دور حکومت میں اس کی واپسی تو ہوگئی ہے تاہم نئی ایوی ایشن پالیسی کے بعد نہ کوئی غیر ملکی ائر لائن پاکستان آئی اور نہ ہی ڈومیسٹک آپریشنز شروع کرنے کے لیے کسی مقامی کاروباری گروپ نے دلچسپی ظاہر کی جو کہ نئی پالیسی کے اہم اہداف تھے، سیاحت کے فروغ کے لیے متعارف کردہ ائر آپریٹنگ لائسنس کی ایک نئی قسم کو بھی جاری ہوئے 2 ماہ ہوچکے ہیں تاہم اس کے حصول کے لیے کسی نے اب تک کوشش نہیں کی، سیاحت کے فروغ کے لیے شاہ رخ نصرت نے ملک کے خوبصورت مقامات کے کچھ ائرپورٹس دوبارہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا تھا تاہم ان میں سے ایک بھی ائرپورٹ اب تک شروع نہیں کیا گیا، اسی طرح شاہ رخ نصرت روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کی منظوری اور آغاز کرانے میں کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کرپائے جس کے تمام مراحل میں وزارت مذہبی امور اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ کا اہم کردار رہا، شاہ رخ نصرت کی اصل توجہ میڈیا کے ذریعے بلاوجہ شہرت حاصل کرنے کی ہے جبکہ عملی طور پر اب تک وہ کوئی قابل قدر کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں ،امکان ہے کہ آئندہ ہفتے شاہ رخ نصرت سے ڈی جی سی اے اے کا چارج لیکر ادارے کے کسی سینئر افسر کو دے دیا جائے گا جبکہ وہ بطور سیکرٹری ایوی ایشن بدستور کام کرتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ 16 جنوری 2019ء کو شاہ رخ نصرت کو صرف 3 ماہ کے لیے ڈی جی سی اے اے مقرر کیا گیا تھا اور قواعد کی رو سے 16 اپریل 2019ء سے وہ ڈی جی سی اے اے نہ رہنے کے باوجود اپنی پوسٹ پر براجمان ہیں۔
پلاسٹک ریپنگ