امریکا نے مبینہ طور پر اپنا ہی ڈرون مار ا گیا، ایران

93
واشنگٹن: امریکی بحری بیڑا یوایس ایس باکسر خلیج فارس میں گشت کرہا ہے‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کررہے ہیں
واشنگٹن: امریکی بحری بیڑا یوایس ایس باکسر خلیج فارس میں گشت کرہا ہے‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کررہے ہیں

 

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقجی نے کہا ہے کہ ہمارا کوئی بغیر پائلٹ جاسوسی طیارہ آبنائے ہرمز میں تباہ نہیں ہوا۔ امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بحریہ کے لڑاکا طیارے نے اپنے انتہائی قریب آنے والے ایک ایرانی ڈورن کو تباہ کر دیا ہے۔ جمعہ کے روز اپنے ٹوئٹر پیغام میں عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سمیت کسی بھی مقام پر ایران کا کوئی بھی ڈرون لاپتا نہیں ہوا۔ مجھے فکر ہے کہ یو ایس ایس باکسر نے اپنا ہی جاسوس طیارہ غلطی سے نہ مار گرایا ہو۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ایک تقریب کے دوران اخباری نمایندوں کو بتایا تھا کہ یو ایس ایس باکسر نامی امریکی جنگی جہاز نے جمعرات کو اس وقت دفاعی کارروائی کی جب یہ ڈرون جہاز کے 1000 گز تک قریب آ کر جہاز اور اس کے عملے پر دھونس جما رہا تھا۔صدر نے بتایا کہ بین الاقوامی پانیوں سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف یہ ایران کی جانب سے کئی اشتعال انگیزیوں میں سے تازہ ترین مخاصمانہ اقدام تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے اہل کاروں، اپنی تنصیبات اور مفادات کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کی مذمت کریں۔ ان کے بقول یہ ایران کی جانب سے جہاز رانی اور عالمی کاروبار کی آزادی میں خلل ڈالنے کی ایک کوشش تھی۔ ایرانی تردید کے بعد جمعہ کے روز ٹرمپ نے اپنے دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر اصرار کیا کہ امریکا نے واقعی ایرانی ڈورن مار گرایا ہے۔ جب کہ ایران نے اپنے سرکاری ٹی وی پر یو ایس ایس باکسر کی ڈرون کے ذریعے نگرانی کی وڈیو جاری کردی، جس میں ڈرون کو اس وقت کے بعد بھی وڈیو بناتے دکھایا گیا ہے، جس دوران امریکا نے اسے مارگرانے کا دعویٰ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں۔ تہران کے ساتھ بہتر اور اچھا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایلچی بھیجنے کی خبروں کی بھی تردید کی۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس سے قبل ایران کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا تھا اس میں تہران کو بیلسٹک میزائل بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔ سابق صدر بارک اوباما کے دور میں کیا گیا معاہدہ ایک المیہ تھا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کو یمن اور عراق میں پسپا ہونا پڑا ہے۔