سینیٹ میں اپوزیشن کااجلاس 55 سینیٹرز کا میر حاصل بزنجو کی حمایت کا اعلان

73

اسلام آباد (صباح نیوز) سینیٹ میں متحدہ حزب اختلاف نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کی بھاری اکثریت سے منظوری کے لیے اپنی اکثریت ثابت کر دی۔ 55 ارکان سینیٹ نے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کے لیے میر حاصل بزنجو کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ سینیٹ اجلاس کی طلبی میں رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو ایوان بالا میں برتری حاصل ہے۔ ہر صورت نئے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہونا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا حکومت کو گرانے کی ابتدا ہے یہ اعلان جمعرات کو اپوزیشن لیڈر راجا ظفر الحق کی صدارت میں اپوزیشن جماعتوں کے غیرمعمولی اجلاس میں کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے اپوزیشن 55 ارکان سینیٹ نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کی حمایت کی اور تمام اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کے تمام ارکان سینیٹ متحد ہیں۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان سینیٹ نے شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے راجا ظفر الحق نے کہا کہ 2 سے 3 سینیٹرز کے علاوہ تمام سینیٹرز حاضر تھے۔ 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمع کرائی تھی۔ ہم نے ایک ریکوزیشن جمع کرائی ہے۔ وزارت پارلیمانی امور کو بھجوا دیا گیا ہے۔ نئے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب یقینی بنائیں گے۔ اپوزیشن قیادت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ میر حاصل بزنجو آئندہ چیئرمین سینیٹ ہوں گے اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت سے صادق سنجرانی محروم ہو چکے ہیں۔ انہیں چلے جانا چاہیے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمن نے کہا کہ بعض اداروں اور لوگوں کی طرف سے دباؤ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہیں ارکان سینیٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ میر حاصل بزنجو کو کامیاب کرایا جائے گا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک عدالت میں ہونے کے باعث نہیں آ سکے۔ ہمارے سارے ارکان موجود تھے۔ حکومت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ تحریک کو ناکام بنانے کے دعوے نہ کرے اس کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ حکومتی بیانات اس بات کو تقویت دینا چاہتے ہیں کہ حکومت ہارس ٹریڈنگ کرنا چاہتی ہے۔ ہم تحریک کو کامیاب بنائیں گے اور حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔