احرام و طواف میں ہونے والی غلطیاں

108

مولوی عبیداللہ طاہرفلاحی

احرام:
(1) میقات سے حج اور عمرے کی نیت کرنا لازم ہے۔ میقاتیں اللہ کے رسولؐ کی جانب سے متعین کردہ ہیں۔ حاجی یا معتمر کے لیے بغیر احرام کے میقات سے گزرنا جائز نہیں ہے۔ خواہ وہ زمین کے راستے سفر کررہا ہو یا بحری یا ہوائی راستے سے۔ بعض حجاج ہوائی سفر میں بغیر احرام کے میقات سے گزر جاتے ہیں اور جدہ ائر پورٹ پہنچ کر احرام باندھتے ہیں۔ یہ عمل سنت کے خلاف ہے۔ ان کو چاہیے کہ جہاز میں سوار ہونے سے قبل احرام باندھ لیں اور میقات سے پہلے جہاز ہی میں نیت کرلیں۔ اگر بغیر احرام کے وہ جدہ پہنچ جاتے ہیں تو واپس میقات تک جائیں اور وہاں سے احرام باندھیں۔ اگر ایسا نہیں کرتے ہیں اور جدہ ہی سے احرام باندھتے ہیں تو اکثر علما کے نزدیک اْن پر ایک جانور کے ذبح کرنے کا فدیہ واجب ہے، جو مکہ میں ذبح کیا جائے گا اور فقرا میں تقسیم ہوگا۔
(2) احرام کی حالت میں حاجی یا معتمر دو چادریں استعمال کرتا ہے۔ ایک تہبند کی صورت میں باندھ لیتا ہے اور دوسری کندھے پر ڈال لیتا ہے۔ بعض حجاج کرام کی چادر ناف سے نیچے سرک جاتی ہے اور وہ اس پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ حالانکہ ناف ستر میں داخل ہے۔ اس کو ڈھکنے کا خصوصی التزام ہونا چاہیے۔
طواف:
(1) احتیاطاً حجرِ اسود اور رکن یمانی کے درمیان سے طواف شروع کرنا، غلو فی الدین ہے، جس سے نبی کریمؐ نے منع فرمایا ہے۔
(2) زیادہ بھیڑ کی صورت میں حجرِ اسماعیلؑ (حطیم) کے اندر سے طواف کرنا۔ ایسی صورت میں طواف درست نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ حطیم خانہ کعبہ کا حصہ ہے۔
(3) ساتوں چکر میں رمل کرنا۔ رمل صرف ابتدائی تین چکروں میں ہے۔
(4) حجرِ اسود کے بوسے کے لیے شدید دھکا مکی کرنا۔ کبھی کبھی نوبت گالم گلوج اور لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ بات یوں تو کسی حال میں درست نہیں ہے، لیکن حج میں خصوصیت کے ساتھ ممنوع ہے۔
(5)حجرِ اسود کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ یہ بذاتِ خود نفع ونقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض حضرات اس کا استلام کرکے اپنے پورے بدن پر اور بچوں کے بدن پر ہاتھ پھیرتے ہیں، یہ سراسر جہالت اور ناسمجھی کی بات ہے۔ نفع ونقصان کی قدرت صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ سیدنا عمرؓ کا واقعہ ہے کہ ’’آپؓ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: مجھے علم ہے کہ تو صرف ایک پتھر ہے، تو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع، اور اگر میں نے اللہ کے رسولؐ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا‘‘۔ (بخاری و مسلم)
(6) پورے خانہ کعبہ کا استلام۔ ایسا کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ استلام ایک عبادت ہے، اور ہر عبادت میں اللہ کے رسولؐ کی پیروی ضروری ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے صرف حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کا استلام کیا ہے۔ عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے: وہ اور امیر معاویہؓ طواف کر رہے تھے۔ امیر معاویہؓ تمام ارکانِ کعبہ کا استلام کرنے لگے۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے پوچھا کہ آپ ان دونوں ارکان کا استلام کیوں کررہے ہیں، جب کہ اللہ کے رسولؐ نے ان کا استلام نہیں کیا ہے؟ تو امیر معاویہؓ نے فرمایا: خانہ کعبہ کا کوئی حصہ متروک نہیں ہے۔ تو عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: اللہ کے رسولؐ کا عمل ہی تمھارے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ معاویہؓ نے فرمایا: آپ نے درست فرمایا‘‘۔
(7)ہر طواف کے لیے مخصوص دعا کا التزام کرنا بایں طور کہ اس کے علاوہ کوئی دعا نہ کرنا۔ بلکہ بسا اوقات اگر دعا پوری ہونے سے قبل طواف مکمل ہوجاتا ہے تو دعا بیچ ہی میں منقطع کرکے اگلے طواف میں پڑھی جانے والی دوسری دعا شروع کردی جاتی ہے اور اگر طواف مکمل ہونے سے قبل دعا پوری ہوجاتی ہے تو بقیہ طواف خاموش رہا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اللہ کے رسولؐ سے ثابت نہیں۔
(8) کچھ لکھی ہوئی دعاؤں کو ان کا معنی ومطلب سمجھے بغیر پڑھتے رہنا مناسب نہیں، طواف کرنے والے کو معنی ومطلب سمجھ کر دعا کرنی چاہیے۔ خواہ اپنی مادری زبان میں ہی دعا کی جائے۔
(9)بعض حجاج کا ایک گروپ کی شکل میں طواف کرنا بایں صورت کہ ان میں سے ایک شخص بلند آواز سے دعا پڑھے اور بقیہ بلند آواز میں اسے دہرائیں۔ یہ چیز دیگر افراد کے خشوع وخضوع میں مخل اور ان کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ حدیث میں ہے: ’’ایک بار اللہ کے رسولؐ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز میں بلند آواز سے تلاوت کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: نمازی اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، تو وہ دیکھے کہ اپنے رب سے کیا کہہ رہا ہے، اور قرآن کی تلاوت میں ایک دوسرے سے آوازیں بلند کرنے کا مقابلہ نہ کرو‘‘۔ (موطا امام مالک)
(10) بعض حجاج یہ سمجھتے ہیں کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں لازماً مقامِ ابراہیم کے پاس ہی پڑھنی چاہییں۔ اس کے لیے وہ دھکا مکی کرتے اور طواف کرنے والوں کی راہ میں حائل ہوکر ان کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں، یہ صحیح نہیں۔ یہ رکعتیں بیت اللہ میں کہیں بھی اداکی جاسکتی ہیں۔
(11) بعض حضرات مقامِ ابراہیم کے پاس کئی کئی رکعات پڑھتے رہتے ہیں، حالانکہ دوسرے حضرات طواف سے فراغت کے بعد منتظر کھڑے رہتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔
(12) بسا اوقات اپنی نماز سے فارغ ہوکر گروپ کا رہنما اپنی پوری جماعت کے ساتھ بلند آواز سے دعا کرتا ہے اور دوسرے نمازیوں کی نماز میں مخل ہوتا ہے۔ یہ مناسب نہیں۔