افکار

56

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

اگرچہ اہل ایمان تو اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد (فتح مبین) سن کر ہی مطمئن ہوگئے تھے، مگر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ اس صلح کے فوائد ایک ایک کرتے کھلتے چلے گئے یہاں تک کہ کسی کو بھی اس امر میں شک نہ رہا کہ فی الواقع یہ صلح ایک عظیم الشان فتح تھی۔
٭…٭…٭
اس میں پہلی مرتبہ عرب میں اسلامی ریاست کا وجود باقاعدہ تسلیم کیا گیا۔ اس سے پہلے تک عربوں کی نگاہ میں محمدؐ اور آپ کے ساتھیوں کی حیثیت محض قریش اور قبائل عرب کے خلاف خروج کرنے والے ایک گروہ کی تھی اور ان کو برادری باہر (Outlaw ) سمجھتے تھے۔ اب خود قریش ہی نے آپ سے معاہدہ کرکے سلطنت اسلامی کے مقبوضات پر آپ کا اقتدار مان لیا اور قبائل عرب کے لیے یہ دروازہ بھی کھول دیا کہ ان دونوں سیاسی طاقتوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں حلیفانہ معاہدات کرلیں۔
٭…٭…٭
مسلمانوں کے لیے زیارت بیت اللہ کا حق تسلیم کر کے قریش نے آپ سے آپ گویا یہ بھی مان لیا کہ اسلام کوئی بے دینی نہیں ہے جیسا کہ وہ اب تک کہتے چلے آرہے تھے، بلکہ عرب کے مسلمہ ادیان میں سے ایک ہے اور دوسرے عربوں کی طرح اس کے پیرو بھی حج وعمرے کے مناسک ادا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس سے اہل عرب کے دلوں کی وہ نفرت کم ہوگئی جو قریش کے پروپیگنڈا سے اسلام کے خلاف پیدا ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭
دس سال کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہوجانے سے مسلمانوں کو امن میسر آگیا اور انہوں نے عرب تمام اطراف و نواح میں پھیل کر اس تیزی سے اسلام کی اشاعت کی کہ صلح حدیبیہ سے پہلے پورے 19 سال میں اتنے آدمی مسلمان نہ ہوئے تھے جتنے اس کے بعد دو سال کے اندر ہوگئے۔ یہ اسی صلح کی برکت تھی کہ یا تو وہ وقت تھا جب حدیبیہ کے مقام پر نبیؐ کے ساتھ 1400 آدمی آئے تھے، یا دو ہی سال کے بعد جب قریش کی عہد شکنی کے نتیجے میں نبیؐ نے مکہ پر چڑھائی کی تو دس ہزار کا لشکر آپ کے ہمرکاب تھا۔
٭…٭…٭
قریش کی طرف سے جنگ بند ہوجانے کے بعد آپؐ کو یہ موقع مل گیا کہ اپنے مقبوضات میں اسلامی حکومت کو اچھی طرح مستحکم کرلیں اور اسلامی قانون کے اجرا سے مسلم معاشرے کو ایک مکمل تہذیب و تمدن بنادیں۔ یہی وہ نعمت عظمٰی ہے جس کے متعلق اللہ تعالٰی نے سورہ مائدہ کی آیت 3 میں فرمایا کہ ’’آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے‘‘۔
٭…٭…٭
قریش سے صلح کے بعد جنوب کی طرف سے اطمینان نصیب ہوجانے کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں نے شمال{زیر عرب اور وسطِ عرب کی تمام مخالف طاقتوں کو باآسانی مسخر کرلیا۔ صلح حدیبیہ پر تین ہی مہینے گزرے تھے کہ یہودیوں کا سب سے بڑا گڑھ خیبر فتح ہوگیا اور اس کے بعد فدک، وادی القریٰ، تیما اور تبوک کی یہودی بستیاں اسلام کے زیرنگیں آتی چلی گئیں۔ پھر وسطِ عرب کے وہ تمام قبیلے بھی، جو یہود وقریش کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتے تھے، ایک ایک کرکے تابع فرمان ہوگئے۔ اس طرح حدیبیہ کی صلح نے دو ہی سال کے اندر عرب میں قوت کا توازن اتنا بدل دیا کہ قریش اور مشرکین کی طاقت دب کر رہ گئی اور اسلام کا غلبہ یقینی ہوگیا۔
(تفہیم القرآن، تفسیر سورہ الفتح)