طلاق کے بعد تحائف کی واپسی

66

 

رضی الاسلام ندوی

ازدواجی تعلق کو قرآن کریم نے ’میثاق غلیظ‘ (النساء 12) یعنی’ مضبوط معاہدے‘ سے تعبیر کیاہے۔ دو اجنبی مرد وعورت نکاح کے بندھن میں بندھتے ہیں تو ان کے درمیان غایت درجے کی محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس تعلق کے نتیجے میں اگرچہ دونوں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے زندگی گزارتے ہیں، لیکن اسلام نے مالی معاملات کی تمام تر ذمے داری مرد پر عائد کی ہے اور عورت کو اس سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ مرد عورت کو مہر ادا کرتاہے، اسے رہائش فراہم کرنے کی ذمے داری لیتا ہے، اس کا نفقہ برداشت کرتا ہے، اسے خوش رکھنے کے لیے تحفے تحائف دیتاہے، وغیرہ۔
اگر کسی وجہ سے رشتۂ نکاح پائیدار نہ رہ سکے اور زوجین کے درمیان تنازع کے سر ابھارنے اور مسلسل جاری رہنے کی بنا پر نوبت علیحدگی تک پہنچ جائے تو شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ شوہر ازدواجی زندگی کا لطف اٹھاتے ہوئے بیوی کو جو کچھ دے چکا ہو، اسے واپس لینے کی خواہش نہ رکھے اور اس کی کوشش نہ کرے۔ صرف ایک صورت اس سے مستثنیٰ رکھی گئی ہے۔ وہ یہ کہ شوہر کے علیحدگی نہ چاہنے کے باوجود بیوی کسی منافرت کی بنا پر رشتہ منقطع کرنے پر مصر ہو اور خلع چاہے تو شوہر اپنی دی ہوئی چیزیں (مہر وغیرہ) واپس لے سکتاہے۔ سورئہ بقرہ، 229 ، میں اس کی صراحت موجود ہے اور استثنا کا بھی ذکر ہے کہ اس صورت میں ’’یہ معاملہ ہوجانے میںکوئی مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے‘‘۔ آیت کا آخری حصہ بہت اہم اور رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدودِ الٰہی سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں‘‘۔
مردوں کو عورتوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے، ان کے معاملے میں اپنا حق چھوڑ دینے، بلکہ علیحدگی کے وقت بھی انہیں کچھ دے دلا کر رخصت کرنے کی ہدایات قرآن کریم میں دیگر مقامات پر بھی دی گئی ہیں۔ مثلاًسورئہ بقرہ (آیت 237 ) میں ایک مسئلہ یہ بتایا گیا ہے کہ ’’اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی ہو، لیکن مہر مقرر کیا جاچکا ہو، تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے (اور مہر نہ لے) یا وہ مرد جس کے اختیار میں عقد ِ نکاح ہے، نرمی سے کام لے (اور پورا مہر دے دے)۔ اِلّا یہ کہ عورت نرمی برتے اور مہر نہ لے، یا مرد نرمی سے کام لے اور پورا مہر دے دے‘‘۔ یہ مسئلہ بتادینے کے بعد آگے مردوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے: ’’اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔ تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے‘‘۔ سورۂ نساء19 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور نہ یہ حلال ہے کہ انھیں تنگ کرکے اس مہر کا کچھ حصہ اْڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انھیں دے چکے ہو‘‘۔ اگلی آیت میں تو صریح الفاظ میں ممانعت کی گئی ہے: ’’اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے؟‘‘
ان آیات کی تفسیر میں عموماً مفسرین نے لکھا ہے کہ جس مال کو واپس نہ لینے کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد مہر کی رقم ہے۔ لیکن آیات میں جس طرح کا عمومی انداز اختیار کیا گیا ہے، اس سے ان مفسرین کی بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ اس میں مہر کے ساتھ شوہر کی جانب سے دی گئی دیگر چیزیں بھی شامل ہیں۔ مثلاً زیور، لباس، نقدی اور دیگر تحائف۔
علامہ قرطبیؒ نے لکھا ہے: ’’اس آیت میں شوہروں سے خطاب ہے۔ انھیں منع کیا گیا ہے کہ وہ بیویوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ان سے کچھ طلب کریں۔ یہاں خاص طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ انھوں نے بیویوں کو جو کچھ بھی دیا ہو اسے واپس نہ مانگیں۔ اس لیے کہ لوگوں کا عْرف یہ ہے کہ تنازع اور بگاڑ کے وقت آدمی وہ سب مانگنے لگتا ہے جو اس نے عورت کو دیا تھا، چاہے وہ مہر ہو یا تحائف۔ اسی لیے یہاں خاص طور سے عام انداز اختیار کیا گیا ہے‘‘۔ (الجامع لاحکام القرآن)
بعض فتاویٰ میں کہا گیا ہے: ’’مسئلے کا دارومدار ’عُرف‘ پر ہے۔ عام طور پر ہماری طرف کا جو عُرف ہے وہ یہ ہے کہ خاوند کی طرف سے جو زیورات بیوی کو دیے جاتے ہیں، اس کا مالک شوہر ہی رہتا ہے، عورت اسے عاریۃ استعمال کرتی ہے۔ جہاں یہ ’عْرف‘ ہو، وہاں شوہر اپنے زیورات کو واپس لے سکتا ہے‘‘۔ (فتاویٰ دار العلوم دیوبند) اگر واقعی کسی جگہ کا یہ ’عُرف‘ ہو تو اس کے مطابق طلاق کے بعد شوہر اپنے دیے ہوئے زیور کو واپس لے سکتا ہے، لیکن اس معاملے میں شریعت کے مزاج اور قرآن کریم کی صریح ممانعت کو دیکھتے ہوئے بیوی کو دیے گئے زیور کو واپس نہ لینا پسندیدہ ہے۔