کراچی عوامی مارچ

322

قاسم جمال

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے۔ ملک بھر سے لاکھوں افراد اپنے روزگار کے لیے یہاں آباد ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ تیس سال سے شہر کراچی خوف دہشت کی فضا میں پروان چڑھا۔ اربوں روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرنے کے باوجود یہاں کے شہری پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی کرپٹ انتظامیہ نے ٹینکر مافیا کی ملی بھگت سے کراچی کو کربلا بنادیا ہے اور کراچی کا پانی کراچی کے عوام ہی کو فروخت کیا جارہا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور گزشتہ تیس برسوں سے ایم کیو ایم بھی بلا شرکت غیرے اس صوبے میں اقتدار پر قابض رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں کراچی کی چودہ قومی اسمبلی کی نشستیں تحریک انصاف کے پاس، چار نشستیں ایم کیو ایم کی اور دو نشستیں پیپلز پارٹی کے پاس ہیں۔ ایم کیو ایم وفاق میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے اور بجٹ منظوری کے لیے اپنی سابقہ بلیک میلنگ کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور وزارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اس طرح سے یہ نفیس لوگ وفاق کی تین وزارتوں پر براجمان ہیں۔ کراچی میں میئر بھی ایم کیو ایم ہی کا ہے لیکن وہ بھی وسائل کا رونا رو کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالتے ہیں لیکن اربوں کے حساب سے جو بجٹ اور پیسہ ان کے پاس موجود ہے اس کا کوئی حساب دینے کو تیار نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے درویش صفت سٹی ناظم نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے اپنے چار سالہ دور نظامت میں کراچی کے عوام کی جو خدمت کی اور ان کے دور میں جو ترقیاتی کام کیے گئے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ صرف 29ارب روپے میں کراچی میں تعمیر وترقی کا ایسا جال بچھا دیا گیا کہ کراچی کے عوام آج تک انہیں یاد بھی کرتے اور دعائیں دیتے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کا کے فور منصوبہ ان ہی کے دور میں شروع ہوا لیکن بعد میں آنے والی بلدیاتی حکومتوں نے اس اہم منصوبے کو سازش کے تحت رکوایا اور اس منصوبے میں رکاوٹیں کھڑی کی جس کا خمیازہ آج کراچی کے عوام بھگت رہے ہیں۔
مصطفی کمال کے دور میں پرویز مشرف نے دو سو ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبے کراچی پیکیج کے نام پر شروع کیے ان منصوبوں پر بڑے بڑے لوگوں نے ہاتھ صاف کیے۔ کراچی کھیل کے میدان، پارک اور رفاعی پلاٹوں کوچائنا کٹینگ کے نام پر فرخت کردیا گیا اور کراچی کا چہرہ مسخ کر دیا گیا۔ کراچی کا بلدیاتی نظام بھی ایک مافیا کے ہاتھ میں تھا جس نے اپنے مفادات کے لیے اس شہر کو کھنڈر میں تبدیل میں کیا۔ کراچی کوکچرے اور گندگی اور غلاظتوں کا شہر بنادیا گیا۔ پورے شہر کا سیوریج سسٹم تباہ اور ناکارہ کردیا گیا۔ وسائل کا رونا رونے والے میئر کراچی شہریوں کو گٹر کا ایک ڈھکن بھی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ کراچی کے پارک اجڑ گئے، کھیل کے گرائونڈ پر لینڈ مافیا کا قبضہ ہو گیا ہے۔ سرکاری ٹرانسپورٹ تباہ کر کے اس پر بھی مافیا کا قبضہ ہے اور بھاری کرایوں سے عوام کی درگت بنائی جا رہی ہے۔ مہنگائی نہ ختم ہونے والے سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور واقعی عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ وفاقی حکومت نے سی این جی گیس کی قیمتوں میں فی کلو 22 روپے اضافہ کر کے ایک اور بم گرا دیا ہے۔ عوام بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔
اتوار 20 جون کو جماعت اسلامی کراچی نے کراچی کو عزت دو اور مہنگائی، آئی ایم ایف کی غلامی، عوام دشمن بجٹ کے خلاف سہراب گوٹھ سے مزار قائد تک، ’’کراچی عوامی مارچ‘‘ کا بھرپور طریقے سے انعقاد کر کے ناقدین سے ایک بار پھر اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے نتیجے میں کراچی تمام اہم ایشوز پر کامیاب مہمات چلا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ جماعت اسلامی کو ایک عوامی جماعت کے طور پر مقبول بنایا ہے اور اس کے اثرات پورے ملک میں نمودار ہوئے ہیں ۔ کراچی میں ہونے والا تاریخی عوامی مارچ اس لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد جماعت اسلامی نے عوامی ایشو پر اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا اور عظیم الشان عوامی مارچ برپا کر کہ ثابت کر دیا کہ کراچی جماعت اسلامی کا مضبوط گڑھ اور اس کا قلعہ ہے اور کوئی ظلم جبر دہشت اس کی راہ میں رکائوٹ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں کراچی کے عوام بھی قابل مبارک باد ہیں کہ انہوں نے تعصبات کے تمام بتوں کو مسمار کر کے کلمہ والو کا ساتھ دیا۔
سہراب گوٹھ سے فیڈرل بی ایریا اور غریب آباد تک عوام کا سمند امنڈ آیا۔ تمام راستوں پر عوام نے مارچ کے شرکاء پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی اور ایک بار پھر مرحوم قاضی حسین احمد کی قیادت میں ہونے والے کاروان دعوت محبت کی یاد تازہ ہوگئی۔ اس کے لیے جماعت اسلامی کراچی اور اس کی پوری ٹیم قابل مبارک باد ہے کہ شہر کراچی کے انتہائی اہم ایشو پر اس نے یہ مارچ برپا کر کے شہر کی سیاست میں ایک ہلچل مچا دی ہے اور شہر کے نام ونہاد دعویدار بلی کھمبا نوچے کے مترادف کراچی کو پانی دو کے بینر لگانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کیے امیر محترم سراج الحق نے بھی اس موقع پر بڑی جامع تقریر کی جس کی عوام نے بڑی پزیرائی بھی کی۔
سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں آئی ایم ایف کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتی۔ ہم آزاد اور خود مختار قوم ہیں۔ آئی ایم ایف ورلڈ بینک کی غلامی کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان مسلسل جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے ہیں اور غریب عوام پر مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا ہے۔ ملک کا سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر آج بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ اس شہر کے لوگوں کے لیے نہ پینے کا پانی ہے نہ بجلی ہے نہ ہی گیس، سیوریج سسٹم کی بدحالی اور سڑکوں کی خستہ حالی ہے۔ صفائی ستھرائی کا کوئی نظام نہیں ہے اور یہ شہر بدامنی اور لوٹ ما ر کا شہر بنا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت کا کوئی ویژن نہیں ہے۔ مرغی کے انڈے اور بکری کے بچے بیچنے سے معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔ حکمرانوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا کروائیں گے لیکن انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بے گھروں کے لیے پچاس لاکھ مکانات تعمیر کرے گی لیکن پچاس لاکھ ٹینٹ بھی نہیں دیے۔ کراچی کے حقوق کی دعویدار ایم کیو ایم کو روزگار مل گیا ہے۔ ان کے دو وزیر تھے اب ایک اور وزیر کا وعدہ کیا گیا ہے اور ایک بار بھی کراچی والوں کا سودا کردیا گیا ہے۔ کراچی میں کے فور کا منصوبہ برسوں سے حل نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پانی کا بحران انتہائی شدت اختیار کرگیا ہے اور پورا شہر کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے۔ گرین لائن کا منصوبہ ادھورا پڑا ہے۔ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کو ہے اور انتخاب کا وقت بھی قریب آرہا ہے۔ ان حالات میں تمام سیاہ سفید کے مالک متحدہ والوں نے کراچی کو پانی دو کے بینر لگا دیے ہیں۔ انہیں یہ بینر لگاتے ذرا بھی شرم وحیاء نہیں آئی۔ حکومت نے گیس کی قیمتوں میں دوسو فی صد اضافہ کردیا ہے۔ چینی کی قیمتوں میںاضافہ کر کے شوگرمافیا کو فائدہ پہنچایا گیا ہے اور ان حکمرانو کی نالائقی کی سزا عوام اور مزدور ادا کریںگے۔ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے پریشان اور شرمندہ ہیں۔ حکمرانوں نے سو دن کی مہلت مانگی تھی پھر چھ ماہ کا وعدہ کیا اب ایک سال ہوگیا ہے تو اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا پہلا دور ہے ہم اگلے دور حکومت میں حالات بہتر کر سکیں گے۔ ان حالات میں کراچی شہر میں جماعت اسلامی کا عوامی مارچ ایک بڑی تبدیلی کی لہر ہے۔ کراچی کے عوام لوٹ مار اور خانہ جنگی کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کراچی پر گزشتہ تیس برسوں سے اقتدار پر قابض ایم کیو ایم ہی کراچی کے حالات کی خرابی کی برابر کی ذمے دار ہے۔ کراچی کے عوام چکی میں پس رہے ہیں۔ جن پر اعتبار کیا وہ ہی سب سے بڑے ڈکٹیٹر نکلے۔ بلدیاتی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں اور کوئی بھی عوام کے مسائل حل کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ملک اس وقت شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ حکومت نے جو سبز باغ دیکھائے وہ خواب اور سیراب ثابت ہوئے ہیں۔ کراچی کو حکومتوں نے ہمیشہ نظر انداز کیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ کراچی کے عوام سے ووٹ لینے کے دعویدار کراچی کو بھول چکے ہیں۔ بلا شبہ، ’’کراچی کو عزت دو‘ کراچی کو حقوق دو‘‘ کی تحریک عوامی تحریک کا نقطہ آغاز ہے۔ کراچی عوامی مارچ میں عوام نے شرکت کر کے حکمران جماعتوں کو مسترد کر دیا ہے اور ثابت ہو گیا ہے کہ جماعت اسلامی ہی کراچی کے عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے اور جماعت اسلامی جرات کے ساتھ کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑ سکتی ہے اور کراچی کی عزت وقار اور کراچی کے حقوق کی محافظ ہے۔