نیب نے پانی چوروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا

75

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) نیب سندھ نے زیر زمین کھارے پانی کی آڑ میں واٹر بورڈ کی لائنوں سے میٹھا پانی چوری کرکے فروخت کرنے کے گھناؤنے کاروبار کی اطلاعات پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور کھارے پانی کی سپلائی کرنے والی کمپینیوں سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ذرائع کے مطابق نیب سندھ نے ان کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے قومی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کے ساتھ 100روپے کے اسٹامپ پیپر پر تحریری آگاہ کریں کہ ان کے پائپوں میں کھارے پانی کے ساتھ میٹھا پانی تو مکس نہیں کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق نیب سندھ نے ان کمپنیوں سے یہ معلومات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے کہ کن کن صنعتی زونز میں کون کون سی فیکٹریوں میں کھارا پانی سپلائی کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب سندھ کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ ایک منظم منصوبے کے تحت شہر بھر میں لیاری ندی کے اطراف کالے پائپ کی لائنیں بچھائی گئی ہیں اور بورنگ کرکے زیر زمین پانی ان پائپوں کے ذریعے مختلف صنعتی علاقوں کی فیکٹریوں کو سپلائی کیا جارہا ہے تاہم مبینہ طور پر واٹر بورڈ کے افسران کی ملی بھگت سے بعض کمپنیاں لیاری ندی کے اطراف سے گزرنے والی واٹر بورڈ کی لائنوں میں سے کنکشن لے کر میٹھا پانی بھی کھارے پانی میں مکس کرکے فروخت کررہی ہیں۔