ایکسپورٹ پالیسی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے، جاوید بلوانی

238

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین محمد جاوید بلوانی نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو پانچ زیرو ریٹیڈ سیکٹرز پر وفاقی بجٹ میں ایس آر او 1125کی منسوخی اور یکم جولائی سے 17فیصد سیلز ٹیکس کے اطلاق، روپے کی مسلسل ڈی ویلیویشن، مینوفیکچرنگ کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ اور کراچی میں کے الیکٹرک کی طرف سے حکومتی نوٹیفکیشن کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پانچ ایکسپورٹ سیکٹرز کیلئے 7.5سینٹ سے زائد کے نرخ سے بجلی کے زائد بلوں کی وصولی کی وجہ سے انتہائی مضطرب اور بے چینی کے شکار ایکسپورٹرز کی صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان معاملات اور مسائل کی وجہ سے ایکسپورٹرز نئے ایکسپورٹ آرڈرز لینے سے گریزاں ہیں۔ جاوید بلوانی نے مفاد عامہ میں وزیر اعظم سے اپیل کی کہ ایکسپورٹ پالیسی کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے اور ایکسپورٹس کے فروغ کی خاطر پالیسی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے اور ایکسپورٹ انڈسٹریز کے لیے روپے کے مقابلے میں ڈالرز کا ایکس چینج ریٹ طویل المیاد بنیادوں پر فکس کیا جائے، یوٹیلیٹز کو حکومت کے ایکسپورٹ انڈسٹریز کے لیے مقرر کردہ علیحدہ نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے، پانچ زیرو ریٹیڈ سیکٹرز کے لیے سیلز ٹیکس نو پے منٹ نو ریفنڈسسٹم کو جاری رکھنے کے لیے نظر ثانی کی جائے اور خطے کے مسابقتی ممالک میں ایکسپورٹرز کو دی جائے والی مراعات کو برابری کی سطح پر پاکستانی ایکسپورٹرز کو فراہم کی جائیں۔